ٹرمپ انتظامیہ کا انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کی انٹرن شپ محدود کرنے کا منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ کا انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کی انٹرن شپ محدود کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکا میں زیر تعلیم انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے لیے انٹرن شپ اور عملی تربیت کے مواقع محدود کرنے کی کوشش شروع کردی ہے، جس کے بعد امریکی جامعات میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ میں تشویش پیدا ہوگئی ہے
امریکی حکام نے جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو تعلیمی نصاب سے متعلق عملی تربیت فراہم کرنے والے پروگرام کے قواعد پر سختی سے عمل کریں۔ اس پروگرام کے تحت ایف ون ویزا رکھنے والے طلبہ اپنی تعلیم سے متعلق شعبے میں عملی تجربہ اور انٹرن شپ حاصل کرسکتے ہیں
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ قواعد میں بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ ان پر عمل درآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے انتظامیہ کے مطابق عملی تربیت صرف ایسی سرگرمیوں تک محدود ہونی چاہیے جو طالب علم کے تعلیمی نصاب سے براہ راست منسلک ہوں
نئی ہدایات کے بعد بعض امریکی جامعات نے طلبہ کی عملی تربیت سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جامعات کو خدشہ ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو داخلہ دینے سے متعلق وفاقی منظوری کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے
انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے لیے یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ اپنی ڈگری کے دوران انٹرن شپ کے ذریعے عملی تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ انٹرن شپ ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے
نئی پابندیوں یا سخت نگرانی کے نتیجے میں طلبہ کو انٹرن شپ حاصل کرنے کے لیے مزید شرائط پوری کرنا پڑ سکتی ہیں، جبکہ جامعات کو بھی ہر طالب علم کی عملی تربیت اور اس کے تعلیمی نصاب کے درمیان تعلق ثابت کرنا ہوگا
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدام امریکا میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس سے متعلق امیگریشن اور ویزا پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کی حالیہ کوششوں کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید