ٹرمپ انتظامیہ نے اینتھروپک کے خلاف غیر قانونی کارروائی کی، وفاقی جج کا فیصلہ
واشنگٹن :امریکی وفاقی عدالت نے قرار دیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر قانون کی خلاف ورزی کی اور اس کے خلاف انتقامی کارروائی کی
وفاقی ضلعی جج ریٹا لن نے اپنے فیصلے میں محکمہ دفاع کی جانب سے اینتھروپک کو ’’سپلائی چین رسک‘‘ قرار دینے کے اقدام کو ’’غیر قانونی اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا،عدالت کے مطابق حکومت نے کمپنی کے ساتھ کاروباری تعلق رکھنے والی دوسری کمپنیوں کو بھی اینتھروپک کا بائیکاٹ کرنے کا حکم دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اینتھروپک نے امریکی فوج کو اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بعض استعمال کی اجازت دینے سے انکار کردیا،کمپنی خاص طور پر مصنوعی ذہانت کو نگرانی اور ایسے خودکار ہتھیاروں کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ نہیں تھی جن میں انسانی مداخلت کے بغیر ہدف منتخب کرنے یا کارروائی کرنے کی صلاحیت ہو
اینتھروپک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کمپنی کو ’’سپلائی چین رسک‘‘ قرار دے کر اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا،کمپنی کے مطابق حکومت کا یہ اقدام اس کے اس فیصلے کے خلاف انتقامی کارروائی تھا جس میں اس نے فوجی استعمال کے حوالے سے بعض پابندیاں برقرار رکھی تھیں
جج ریٹا لن نے اپنے فیصلے میں حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا کہ قومی سلامتی کی بنیاد پر اس طرح کی کارروائی کی جاسکتی ہے،ان کے مطابق قومی سلامتی کا حوالہ حکومت کو اپنے ناقدین کو سزا دینے یا ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کا کھلا اختیار نہیں دیتا
عدالت کے مطابق محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو اس سے تعلق ختم کرنے یا بائیکاٹ کرنے کا حکم دے کر بھی غیر قانونی اقدام کیا
اینتھروپک نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعمیری انداز میں کام جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو قومی سلامتی کے لیے اس طرح استعمال کیا جاسکے جس سے تمام امریکی شہری فائدہ اٹھا سکیں
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ اور مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع میں اہم پیش رفت ہے،معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے تقاضوں کو بنیاد بنا کر مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں پر کس حد تک دباؤ ڈال سکتی ہے، خصوصاً جب کوئی کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کے بعض فوجی استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرے
فیصلے نے یہ اصول بھی واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں اور حکومت ان اختیارات کو کسی کمپنی کی پالیسی یا اختلاف رائے پر اسے سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کرسکتی





