کارپوریٹ امریکا نے ٹرمپ کو کروڑوں ڈالر دیے، اب کمپنیوں کے سربراہان کو کانگریس کی تحقیقات اور سمن کا خوف

کارپوریٹ امریکا نے ٹرمپ کو کروڑوں ڈالر دیے، اب کمپنیوں کے سربراہان کو کانگریس کی تحقیقات اور سمن کا خوف

امریکا کی بڑی کمپنیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی منصوبوں کی حمایت کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں، لیکن اب کئی کمپنیوں کے سربراہان کو خدشہ ہے کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو یہی سیاسی قربت ان کے لیے کانگریس کی تحقیقات اور سمن کا باعث بن سکتی ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کچھ بڑی امریکی کمپنیاں پہلے ہی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے لگی ہیں،بعض نے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق عہدیداروں کو ملازمت دی ہے، ڈیموکریٹک سیاسی تنظیموں کو عطیات دیے ہیں اور واشنگٹن میں اپنی لابنگ سرگرمیاں بڑھا دی ہیں تاکہ ممکنہ طور پر آنے والی کانگریسی نگرانی کے اثرات کو کم کیا جاسکے
میٹا اور پالانٹیر سمیت بعض کمپنیوں کے عہدیدار اور مشیر اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ مستقبل میں انہیں معلومات فراہم کرنے کے مطالبات، کانگریسی سماعتوں اور حتیٰ کہ سمن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،بعض کمپنیوں نے اندرونی ٹیمیں بھی قائم کی ہیں جو یہ جائزہ لے رہی ہیں کہ ڈیموکریٹس کے زیرِ اقتدار کانگریس کی تحقیقات کی صورت میں کمپنی کو کن معاملات پر سوالات کا سامنا ہوسکتا ہے
کاروباری حلقوں میں خاص تشویش ان کمپنیوں کے بارے میں ہے جنہوں نے ٹرمپ یا ان کے منصوبوں کو بڑے مالی عطیات دیے،بعض کمپنیوں کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوان کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو ممکنہ تحقیقات کا ہدف بنا سکتے ہیں
میٹا اس سلسلے میں نمایاں مثال بن گئی ہے،کمپنی نے رواں سال وفاقی انتخابات سے وابستہ ڈیموکریٹک سیاسی تنظیموں کو لاکھوں ڈالر دیے ہیں، جبکہ ریپبلکن تنظیموں کو بھی بڑی رقوم فراہم کی ہیں،اس سے قبل کمپنی نے ٹرمپ سے وابستہ ایک سیاسی کمیٹی کو بھی 10 ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا،یوں رواں سال وفاقی سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ تنظیموں کو میٹا کی مجموعی سیاسی معاونت کم از کم 30 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے
دیگر کمپنیاں بھی اسی راستے پر چل رہی ہیں،پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس اور کالشی نے حکومتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ سابق معاونین کو بھرتی کیا ہے،اوپن اے آئی نے بھی واشنگٹن میں ڈیموکریٹک قانون سازوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے تقریبات اور عشائیوں کا اہتمام کیا ہے
کارپوریٹ امریکا میں یہ تشویش پہلے ہی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ امریکی چیمبر آف کامرس نے کاروباری رہنماؤں کے لیے ایک نشست منعقد کی جس میں ممکنہ کانگریسی نگرانی اور تحقیقات سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا گیا،ایمیزون، شیورون، فائزر اور یونائیٹڈ ہیلتھ سمیت بڑی کمپنیوں کے عہدیدار اس بحث میں شریک ہوئے، جہاں غیر رسمی کانگریسی درخواستوں سے لے کر باقاعدہ سمن تک مختلف صورتوں پر غور کیا گیا
ایک قانونی فرم نے بھی جون میں کانگریسی تحقیقات کے حوالے سے خصوصی نشست منعقد کی، جس میں وکلا، کمپنیوں کے عہدیداروں، کانگریسی عملے اور ایوان کی نگرانی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین جیمز کومر نے شرکت کی،اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر کانگریس کسی کمپنی سے معلومات طلب کرے یا سمن جاری کرے تو اسے کس طرح جواب دینا چاہیے
ڈیموکریٹس کی جانب سے بھی یہ اشارے مل رہے ہیں کہ اگر وہ ایوان کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو کارپوریٹ امریکا پر سخت نگرانی کی جائے گی،ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز، جو ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں اسپیکر بن سکتے ہیں، نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کمپنیوں کو جواب دہ بنانے پر توجہ دے گی
اس وقت ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف چند نشستیں حاصل کرنا ہوں گی، اسی لیے بڑی کمپنیوں کے لیے نومبر کے انتخابات انتہائی اہم بن گئے ہیں،کئی کاروباری رہنما ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے کیونکہ صدارتی انتظامیہ ہی ضابطوں، سرکاری منظوریوں اور دیگر انتظامی فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے، لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ممکنہ ڈیموکریٹک اکثریت انہیں ٹرمپ کی حمایت کی قیمت چکانے پر مجبور کرے
یوں کارپوریٹ امریکا ایک غیر معمولی سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رہیں اور اگر اقتدار کا توازن کانگریس میں تبدیل ہوجائے تو نئی اکثریت کی ممکنہ تحقیقات سے بھی بچا جاسکے

قومی خبریں سے مزید