گروُ تو وڑ گئے ؟ روحانی رہنمائی کے لیے اب لوگ گروؤں کے بجائے مصنوعی ذہانت سے جواب تلاش کرنے لگے

گروُ تو وڑ گئے ؟
روحانی رہنمائی کے لیے اب لوگ گروؤں کے بجائے مصنوعی ذہانت سے جواب تلاش کرنے لگے

بھارت میں روحانی رہنمائی کے روایتی مراکز، یعنی گروؤں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے اب ایک نیا حریف آ گیا ہے، مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس، جو کسی بھی وقت دستیاب ہوتے ہیں اور سوال پوچھنے والے کو تنقید یا شرمندگی کا احساس نہیں دلاتے، تیزی سے ایسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں جو زندگی، موت، دکھ اور روحانیت سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرتے ہیں
چنئی کی یوگا انسٹرکٹر کریپا ویدیاناتھن کے خاندان نے بھی ذاتی سانحے کے بعد مصنوعی ذہانت کا رخ کیا،2024 میں ان کی 27 سالہ بھانجی الاسکا میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگئی،خاندان شدید صدمے میں تھا اور یہ سوال کر رہا تھا کہ جب انہیں خدا پر اتنا گہرا یقین تھا تو یہ سانحہ ان کے ساتھ کیوں پیش آیا
ویدیاناتھن نے اپنی غم زدہ بہن کی ملاقات ایک معروف گرو سے کرائی، اس امید پر کہ وہ اسے اس مشکل وقت میں روحانی سہارا دے سکیں گے،لیکن گرو نے اسے بتایا کہ یہ سب ’’کرما‘‘ کا نتیجہ ہے اور اسے اس موقع کو اپنی اندرونی فطرت سے جڑنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے
ویدیاناتھن کے مطابق کرما کے تصور کو سمجھنے کے باوجود انہیں یہ جواب اپنی بہن کے لیے انتہائی بے رحمانہ اور بے فائدہ محسوس ہوا، کیونکہ وہ ابھی اپنے بچے کی موت کے تازہ صدمے سے گزر رہی تھی
اس کے بعد خاندان نے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے مدد لینا شروع کی،ویدیاناتھن کے مطابق چیٹ جی پی ٹی سے بات کرنا زیادہ آسان تھا کیونکہ وہ انسان کو جج نہیں کرتا،ان کے بقول انسانی روحانی رہنما اگرچہ زیادہ گہری رہنمائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس ہر وقت دستیاب رہنے کا وقت نہیں ہوتا، جبکہ مصنوعی ذہانت کسی بھی وقت جواب دے سکتی ہے
یہی فوری دستیابی اب روحانی رہنمائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے،خاص طور پر ہندو مذہب میں گرو کا تصور بہت اہم ہے، جہاں گرو کو انسان کو پیدائش، موت اور دوبارہ جنم کے چکر سے نجات یعنی موکش کی طرف رہنمائی کرنے والا سمجھا جاتا ہے
مصنوعی ذہانت کے یہ نظام بڑی زبانوں کے ماڈلز پر کام کرتے ہیں جو وسیع مقدار میں تحریری مواد سے سیکھ کر جوابات تیار کرتے ہیں،ان میں مذہبی کتابیں بھی شامل ہوسکتی ہیں، جن میں ہندو مذہب کی مقدس کتاب بھگود گیتا نمایاں ہے،اس طرح لوگ کسی گرو سے ملاقات کا انتظار کیے بغیر یا فیس ادا کیے بغیر اپنے ذاتی اور وجودی سوالات کے جواب تلاش کرسکتے ہیں
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے خود بعض معروف روحانی رہنماؤں کو بھی اس میدان میں آنے پر مجبور کیا ہے،بھارت کے معروف روحانی رہنما جگّی واسودیو، جنہیں سادھ گرو کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اپنی ’’میراکل آف دی مائنڈ‘‘ ایپ میں مصنوعی ذہانت کی ایک خصوصیت شامل کی ہے، جو ان کی تعلیمات کے ذخیرے کی بنیاد پر سوالات کے جواب دیتی ہے
امریکا میں مقیم معروف روحانی اور خود معاونت کے استاد دیپک چوپڑا نے بھی ’’ڈیجیٹل دیپک‘‘ کے نام سے مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جو ان کی کئی دہائیوں پر محیط تقاریر اور تحریروں سے حاصل شدہ مواد کی بنیاد پر سوالات کے جواب دیتا ہے
بھگود گیتا پر مبنی ایک اور پلیٹ فارم ’’گیتا جی پی ٹی‘‘ بھی لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے روحانی مشورہ فراہم کرتا ہے،اس میں بھگوان کرشنا کے مصنوعی ذہانت پر مبنی اوتار صارفین کے سوالات کے جواب دیتے ہیں،اس کے بانی وکاس ساہو کا کہنا ہے کہ وہ کسی شخص کو انسانی گرو تلاش کرنے سے نہیں روکیں گے، لیکن ان کا مفت چیٹ بوٹ ان لوگوں کے لیے مقدس کتاب کی تعلیمات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے جنہیں مشکل وقت میں کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
تاہم مذہب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی گرو کا حقیقی متبادل نہیں بن سکتی،بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی مذہب کی پروفیسر لز بیکار کے مطابق مقدس کتاب کو سمجھنے کے لیے اس سے وابستہ کمیونٹی اور اس کی تشریح کا سیاق و سباق بھی ضروری ہے،صرف مقدس متن کو مصنوعی ذہانت میں ڈال دینے سے یہ ضمانت نہیں ملتی کہ وہ درست روحانی رہنمائی فراہم کرے گ
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ وہ صارف سے اختلاف کرنے کے بجائے اکثر اس کی بات سے اتفاق کرنے اور اسے تسلی دینے کی کوشش کرتی ہے،لیکن حقیقی روحانی یا ذاتی ترقی کے لیے بعض اوقات ایسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان سے اختلاف کرے، اسے مشکل سوالات پوچھے اور اسے اپنی سوچ پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرے
اس کے باوجود مذہبی ادارے بھی مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہے،لاس اینجلس میں قائم سیلف ریئلائزیشن فیلوشپ، جس کی بنیاد پرم ہنس یوگنندا نے 1920 میں رکھی تھی، مصنوعی ذہانت کو ان کی تعلیمات تک رسائی کا ایک نیا ذریعہ سمجھتی ہ،تاہم ادارے کے راہب برادر گووندانند کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت اپنے طور پر غلط یا من گھڑت جوابات نہ دے بلکہ یوگنندا کی اصل تعلیمات ہی کی بنیاد پر جواب فراہم کرے
ان کے مطابق کتابیں جس طرح گزشتہ نسلوں تک ایک روحانی استاد کی تعلیمات پہنچانے کا ذریعہ بنیں، مصنوعی ذہانت بھی ایک نیا ذریعہ ہوسکتی ہے،لیکن ایک حد ایسی ہے جسے ٹیکنالوجی عبور نہیں کرسکتی
ان کا کہنا ہے کہ انسان روح رکھنے والی مخلوق ہیں اور ٹیکنالوجی انسانی روح کی جگہ نہیں لے سکتی
یوں مصنوعی ذہانت روحانی رہنمائی کی دنیا میں تیزی سے داخل تو ہو رہی ہے، لیکن اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا فوری، ہر وقت دستیاب اور غیر جانب دار محسوس ہونے والا مصنوعی ذہانت کا جواب اس انسانی تعلق، تجربے اور روحانی بصیرت کی جگہ لے سکتا ہے جو صدیوں سے گرو اور شاگرد کے تعلق کی بنیاد رہی ہے

قومی خبریں سے مزید