آئی سی ای نے زیرحراست افراد پر قابو پانے کے لیے 16.7 ملین ڈالر کے 6,000 الیکٹرک شاک دینے والے دستانے خریدنے کا معاہدہ کرلیا
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنی آئی سی ای، نے 6,000 ایسے دستانے خریدنے کے لیے 16.7 ملین ڈالر کا بغیر مسابقت کا معاہدہ کیا ہے جو براہ راست جلد سے رابطے کی صورت میں برقی جھٹکا دے سکتے ہیں،ادارے کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مزاحمت کرنے والے زیرحراست افراد کو قابو کرنے میں اہلکاروں کی مدد کرے گی اور اس طرح زیادہ خطرناک یا مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے
ان دستانوں کو جی ایل او وی ای کہا گیا ہے، جو جنریٹڈ لو آؤٹ پٹ وولٹیج ایمیٹر کا مخفف ہے،عام حالت میں یہ ایک معمول کے گشتی دستانے کی طرح کام کرتا ہے، لیکن اہلکار جب اس کا ’’برقی موڈ‘‘ فعال کرتا ہے تو یہ بجلی کا جھٹکا دینے والا آلہ بن جاتا ہے
معاہدے کی دستاویزات کے مطابق دستانے سے جھٹکا دینے کے لیے اسے کسی شخص کی جلد سے براہ راست مس ہونا ضروری ہے،اس کے بعد پیدا ہونے والا برقی جھٹکا درد کا باعث بنتا ہے اور اس کا مقصد مزاحمت کرنے والے شخص کو فوری طور پر قابو میں لانا ہے
آئی سی ای نے سرکاری خریداری کی دستاویزات میں ان دستانوں کو ’’برقی رابطے کے ذریعے توجہ منتشر کرنے اور صورتحال کو کشیدگی سے نکالنے والے آلات‘‘ قرار دیا ہے،ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی گرفتاریوں، زیرحراست افراد کی منتقلی اور حراستی مراکز کے گرد پیدا ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران اہلکاروں کو نسبتاً کم نقصان دہ طریقہ فراہم کرے گی
آئی سی ای کے مطابق یہ دستانے اس وقت استعمال کیے جاسکتے ہیں جب کوئی شخص فعال یا غیر فعال مزاحمت کر رہا ہو اور اہلکار کو اسے فوری طور پر قابو میں کرنے کی ضرورت ہو،ادارے کا مؤقف ہے کہ برقی دستانہ ایسی صورتحال میں طاقت کے زیادہ سنگین ذرائع کے استعمال سے بچنے کا ایک متبادل فراہم کرسکتا ہے
تاہم 16.7 ملین ڈالر کے اس معاہدے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے طریقوں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں،خاص طور پر اس لیے کہ یہ دستانے روایتی حفاظتی سامان کے بجائے براہ راست انسانی جسم پر درد پیدا کرنے کے لیے برقی طاقت استعمال کرتے ہیں
معاہدے کی نوعیت بھی قابل توجہ ہے کیونکہ آئی سی ای نے یہ خریداری بغیر مسابقتی بولی کے کی ہے،وفاقی خریداری کی دستاویزات میں ادارے نے اس ٹیکنالوجی کو اپنے اہلکاروں کے لیے طاقت کے استعمال کا ایک نیا اور نسبتاً کم اثر رکھنے والا ذریعہ قرار دیا ہے
6,000 دستانوں کی یہ خریداری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئی سی ای ملک بھر میں امیگریشن قوانین کے نفاذ، گرفتاریوں اور حراستی مراکز میں زیرحراست افراد سے متعلق کارروائیوں میں پہلے سے زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے،نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اصل سوال یہ ہوگا کہ اہلکار ان دستانوں کو کن حالات میں استعمال کرتے ہیں اور ان کے استعمال کی نگرانی کس طرح کی جاتی ہے
آئی سی ای کا مؤقف ہے کہ مقصد مہلک طاقت کے استعمال کو بڑھانا نہیں بلکہ اہلکاروں کو ایسا اضافی ذریعہ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے مزاحمت کرنے والے شخص کو قابو کیا جاسکے اور زیادہ سنگین نوعیت کے ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے





