ٹرمپ حکومت کا ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی ویزا مزید مہنگا کرنے کا منصوبہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے استعمال ہونے والے ایچ ون بی ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت نئے ویزا کی درخواست کی فیس موجودہ چند ہزار ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کی جا سکتی ہے
ایچ ون بی ویزا امریکی کمپنیوں کو بیرون ملک سے ایسے ہنر مند کارکن بھرتی کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کی مہارت امریکی مارکیٹ میں مطلوب ہو یہ پروگرام خاص طور پر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مالیاتی شعبے اور دیگر خصوصی پیشوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے اہم ہے یہ ویزا پروگرام 1990 میں کانگریس نے قائم کیا تھا اور اس کے تحت عام طور پر ایک مخصوص مدت کے لیے امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے
موجودہ نظام کے تحت ہر سال 65,000 ایچ ون بی ویزے عام امیدواروں کے لیے جبکہ امریکی جامعات سے اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے والے افراد کے لیے مزید 20,000 ویزے مختص ہوتے ہیں ویزا عام طور پر تین سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور بعض حالات میں اسے مزید تین سال تک بڑھایا جا سکتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں ایچ ون بی پروگرام کے ذریعے امریکی کارکنوں کے مقابلے میں کم اجرت پر غیر ملکی کارکن بھرتی کرتی ہیں حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو پہلے مقامی کارکنوں کو ملازمت دینے اور انہیں مطلوبہ مہارت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے
دوسری جانب کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ایچ ون بی پروگرام امریکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ بعض شعبوں میں مطلوبہ مہارت رکھنے والے کارکنوں کی تعداد مقامی سطح پر کافی نہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ مشاورتی اور بیرون ملک خدمات فراہم کرنے والی متعدد بڑی کمپنیاں بھی اس پروگرام کے ذریعے غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دیتی ہیں
نئی مجوزہ فیس 103,265 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو موجودہ اخراجات کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہے امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیس سے حاصل ہونے والی رقم امیگریشن نظام سے متعلق اخراجات پورے کرنے اور قانونی امیگریشن کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی
اس تجویز پر کاروباری تنظیموں اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی فیس کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ماہرین کو بھرتی کرنا مشکل بنا دے گی اور اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں مطلوبہ افرادی قوت کی کمی مزید بڑھ سکتی ہے
ایچ ون بی پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے کارکنوں میں بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں، جبکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ بڑی مشاورتی اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی اس پروگرام پر نمایاں انحصار کرتی ہیں
امریکی حکومت نے ویزا حاصل کرنے کے عمل میں جانچ پڑتال بھی سخت کر دی ہے۔ اس کے علاوہ 2026 میں ایچ ون بی ویزوں کے امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ زیادہ اجرت اور زیادہ مہارت رکھنے والے امیدواروں کو انتخاب کے عمل میں زیادہ وزن دیا جا سکے
نئے اقدامات کے باعث ایچ ون بی ویزوں کے لیے درخواستوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق درخواستوں کی تعداد 2023 میں تقریباً 759,000 سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 344,000 رہ گئی
امریکی کاروباری حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی فیس مستقل طور پر نافذ کر دی گئی تو چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا خاص طور پر مشکل ہو جائے گا جبکہ بڑی کمپنیاں بھی اپنے عالمی کاروباری منصوبوں پر نظرثانی کر سکتی ہیں
ٹرمپ حکومت کا کہنا ہے کہ ایچ ون بی پروگرام کو اس انداز میں تبدیل کیا جا رہا ہے کہ امریکی کارکنوں کو ترجیح ملے اور غیر ملکی کارکن صرف ان شعبوں میں بھرتی کیے جائیں جہاں واقعی مخصوص مہارت کی ضرورت ہو تاہم کاروباری اداروں کا مؤقف ہے کہ پروگرام کو محدود کرنے کے بجائے اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے تاکہ امریکی کمپنیوں کو عالمی سطح کے ہنر مند کارکنوں تک رسائی بھی برقرار رہے





