ٹرمپ کے ’’لیک امریکہ‘‘ کے جواب میں ٹورنٹو کے میئر امیدوار کی نئی تجویز، نیویارک کو ’’صوبہ نیویارک‘‘ بنانے کا طنزیہ مطالبہ

ٹرمپ کے ’’لیک امریکہ‘‘ کے جواب میں ٹورنٹو کے میئر امیدوار کی نئی تجویز، نیویارک کو ’’صوبہ نیویارک‘‘ بنانے کا طنزیہ مطالبہ

ٹورنٹو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے کی تجویز کے بعد ٹورنٹو کے میئر کے امیدوار بریڈ بریڈفورڈ نے بھی طنزیہ انداز میں امریکی ریاست نیویارک کا نام تبدیل کرکے ’’صوبہ نیویارک‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کر دی ہے
بریڈ بریڈفورڈ نے کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو پھر نیویارک کے لیے بھی پرانا نام واپس لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق نیویارک کو 1664 سے 1776 تک ’’صوبہ نیویارک‘‘ کہا جاتا تھا، جب یہ برطانوی نوآبادی تھا
بریڈفورڈ کی یہ تجویز ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ لیک اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کیونکہ ان کے بقول امریکہ کو اونٹاریو کے ساتھ آئندہ زیادہ کاروبار کی توقع نہیں ہے
ٹورنٹو کے میئر کے امیدوار نے اپنے پیغام میں ٹرمپ کی تجویز کو سیاسی طنز کے انداز میں جواب دیا اور کہا کہ اگر امریکہ نام بدلنے کا کھیل شروع کرنا چاہتا ہے تو کینیڈا بھی تاریخ کے پرانے ناموں کی طرف واپس جا سکتا ہے۔ ان کی تجویز کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ مل رہی ہے
لیک اونٹاریو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے اور ٹورنٹو سمیت کئی اہم شہر اس کے کنارے آباد ہیں۔ اس آبی خطے کا نام دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں پرانے جغرافیائی اور تاریخی تعلقات سے جڑا ہوا ہے
ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کرنے کی تجویز دونوں ملکوں کے درمیان جاری شدید تجارتی تنازع کے دوران سامنے آئی ہے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیاسی بیانات میں بھی سختی مسلسل بڑھ رہی ہے
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ پہلے ہی ٹرمپ کی لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کو محض بیان بازی قرار دے چکے ہیں اور دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر حملوں کے بجائے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں
کینیڈا کے وفاقی وزیر ڈومینک لی بلانک نے بھی ٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے امریکی صدر یا ان کی کابینہ کے ارکان کی روزانہ کی سوشل میڈیا پوسٹس کا جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے
بریڈفورڈ کی ’’صوبہ نیویارک‘‘ والی تجویز نے اس تجارتی تنازع کو ایک بار پھر سیاسی طنز اور علامتی بیانات کے میدان میں پہنچا دیا ہے، جہاں دونوں جانب سے ناموں اور تاریخی حوالوں کے ذریعے ایک دوسرے کو جواب دیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید