مصنوعی ذہانت خبر نہیں بدل رہی، عوام کے سامنے پوری حقیقت کا تصور بدل رہی ہے

مصنوعی ذہانت خبر نہیں بدل رہی، عوام کے سامنے پوری حقیقت کا تصور بدل رہی ہے

نیویارک: مصنوعی ذہانت کے دور میں خطرہ صرف یہ نہیں کہ اے آئی کبھی کبھار غلط معلومات پیدا کردیتی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چند نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بنائے ہوئے اے آئی نظام یہ طے کرنے لگے ہیں کہ عوام کسی واقعے کے بارے میں کیا جانیں، کس خبر کو معتبر سمجھیں اور کس دعوے کو نظر انداز کردیں
اس خطرے کی ایک نمایاں مثال اس وقت سامنے آئی جب بعض آئی فون صارفین کو بی بی سی نیوز کے لوگو کے ساتھ ایک اطلاع موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ نیویارک میں یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے چیف ایگزیکٹو برائن تھامپسن کے قتل کے الزام میں گرفتار لوئیجی مانجیونے نے خود کو گولی مار لی ہے،حقیقت میں مانجیونے زندہ تھا اور پولیس کی حراست میں تھا،بی بی سی نے ایسی کوئی خبر بھی شائع نہیں کی تھی
بعد میں معلوم ہوا کہ ایپل انٹیلی جنس نے بی بی سی کی 3 مختلف اطلاعات کو ایک ہی خلاصے میں جوڑتے ہوئے ایک ایسا غلط جملہ بنا دیا جو بی بی سی کے نام سے صارفین تک پہنچا،شکایات سامنے آنے کے بعد ایپل نے خبر اور تفریحی ایپلی کیشنز کے لیے اطلاعات کے خودکار خلاصوں کو عارضی طور پر معطل کردیا
یہ محض اے آئی کی ایک غلطی نہیں تھی،اصل مسئلہ یہ تھا کہ خبر بی بی سی نے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت نے تبدیل کردی، مگر صارف کے سامنے بی بی سی کا نام موجود رہا،یوں جس ادارے نے خبر دی ہی نہیں تھی، اس کے نام سے ایک غلط دعویٰ لاکھوں لوگوں تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوگیا
یہی مسئلہ اب کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہورہا ہے،لوگ ان سوالات کے جواب کے لیے اے آئی معاونین سے رجوع کررہے ہیں جو پہلے گوگل، صحافیوں یا ماہرین سے پوچھے جاتے تھے،انتخابات میں کیا ہوا، جنگ کیوں شروع ہوئی، کس فریق کا دعویٰ درست ہے اور کسی بحران کے پس منظر میں اصل حقائق کیا ہیں، ایسے سوالات کے جواب اب بڑی تعداد میں لوگ براہ راست اے آئی سے حاصل کررہے ہیں
گوگل اور دوسرے سرچ انجن بھی کبھی مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں تھے،وہ طے کرتے تھے کہ کسی موضوع پر کس خبر یا ویب سائٹ کو پہلے دکھایا جائے،تاہم صارف کے پاس اصل خبر کھولنے، رپورٹر کا نام دیکھنے، شواہد کا جائزہ لینے اور مختلف ذرائع کا موازنہ کرنے کا موقع موجود تھا
اے آئی اس عمل کی ایک اہم کڑی ختم کردیتی ہے،وہ مختلف مواد پڑھتی ہے، اسے اپنے انداز میں سمیٹتی ہے اور صارف کو ایک تیار شدہ جواب دے دیتی ہے،صارف اکثر یہ نہیں دیکھ پاتا کہ اس جواب کے پیچھے اصل رپورٹ کس صحافتی ادارے نے تیار کی، کون سا دعویٰ کتنے شواہد پر مبنی تھا اور کون سی معلومات کو نظر انداز کردیا گیا
یہ صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوجاتی ہے جب معلوماتی ماحول پہلے ہی منظم گمراہ کن اطلاعات سے آلودہ ہو،انتخابات کے دوران مصنوعی آوازیں، تبدیل شدہ ویڈیوز اور مربوط گمراہ کن مہمات کے ذریعے امیدواروں کے حق یا مخالفت میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،حکومتیں اور سیاسی جماعتیں بھی اب صرف خبروں پر ردعمل نہیں دیتیں بلکہ اپنے واقعاتی بیانیے کو براہ راست عوام تک پہنچاتی ہیں
غزہ کی جنگ اس مسئلے کی ایک واضح مثال ہے،صحافیوں پر پابندیوں، متضاد دعووں اور مخصوص الفاظ کے استعمال نے وہاں ہونے والے واقعات کی مختلف انداز میں منظرکشی کی ہے،شہریوں کی ہلاکتیں، اسپتالوں اور گھروں کی تباہی، امداد کی رسائی میں رکاوٹیں اور اسرائیلی اقدامات سے متعلق متعدد الزامات اور دستاویزات موجود ہیں، مگر مختلف فریق انہی واقعات کو بالکل مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں
ایسی صورتحال میں کئی ماہ کی صحافتی تحقیقات، اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شواہد کو کسی حکومت کے ایک انکار کے برابر وزن دے دیا جائے تو صارف کے سامنے حقیقت کا توازن بگڑ سکتا ہے،اے آئی اگر یہ نہ بتائے کہ کس دعوے کے پیچھے کتنے شواہد موجود ہیں تو تاریخ، پس منظر اور واقعات کی اصل ترتیب بھی ایک ایسے تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے جس میں بظاہر دونوں فریق برابر دکھائی دیں
اس لیے جمہوریت کے لیے خطرہ صرف اے آئی کی نام نہاد ہیلوسینیشن نہیں،اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ عوامی علم کو چند نجی کمپنیوں کے الگورتھم منظم کرنے لگیں
ایک شہری کو اے آئی کا جواب مل سکتا ہے، لیکن اسے شاید یہ معلوم نہ ہو کہ اصل حقائق کس نیوز روم نے دریافت کیے، دعوے کے پیچھے کیا شواہد ہیں، اے آئی نے ایک ذریعہ دوسرے پر کیوں ترجیح دی اور کون سی معلومات اس کے جواب میں شامل نہیں کی گئیں،ایک پراعتماد اور مختصر جواب بعض اوقات بحث ختم کرسکتا ہے، اس سے پہلے کہ قاری کو یہ معلوم ہو کہ اصل میں اس موضوع پر اختلاف موجود ہے
یورپی نشریاتی اتحاد کے تعاون اور بی بی سی کی قیادت میں کی گئی ایک تحقیق میں 18 ممالک اور 14 زبانوں میں 4 بڑے اے آئی معاونین کے 3,000 سے زیادہ جوابات کا جائزہ لیا گیا،تحقیق کے مطابق 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک اہم مسئلہ موجود تھا، جبکہ 31 فیصد میں ذرائع سے متعلق سنگین مسائل اور 20 فیصد میں نمایاں درستگی کے مسائل سامنے آئے
اس بحران کا ایک معاشی پہلو بھی ہے،روایتی سرچ انجن صارف کو اصل خبر تک لے جاتا تھا،قاری خبر کی ویب سائٹ پر پہنچتا، اصل رپورٹ پڑھتا اور یوں صحافتی ادارے کو اشتہار، سبسکرپشن یا قارئین کی صورت میں کچھ معاشی فائدہ حاصل ہوتا تھا
اے آئی اس پورے عمل کو مختصر کرسکتی ہے،وہ کسی صحافتی ادارے کی تیار کردہ رپورٹ سے معلومات لے کر چند سطروں میں جواب دے سکتی ہے اور صارف کو اصل ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی
پیو ریسرچ کے مطابق جب سرچ کے ساتھ اے آئی کا خلاصہ موجود ہو تو صارف کے سرچ نتیجے پر کلک کرنے کے امکانات تقریباً نصف رہ جاتے ہیں،رائٹرز انسٹی ٹیوٹ سے سروے کیے گئے ناشرین نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ 3 برس میں سرچ سے آنے والی ٹریفک میں 43 فیصد کمی ہوسکتی ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ صحافتی اداروں کی تیار کردہ خبریں اے آئی کے جوابات میں استعمال ہوتی رہیں گی، مگر ان خبروں کو تیار کرنے والے اداروں تک قارئین کی رسائی کم ہوتی جائے گی
یہ مسئلہ پاکستان کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے، جہاں صحافت پہلے ہی کم ہوتی آمدنی، سیاسی دباؤ، تنخواہوں میں تاخیر اور سرکاری و کارپوریٹ اشتہارات پر انحصار جیسے مسائل کا شکار ہے،بیشتر پاکستانی اخبارات اور ڈیجیٹل اداروں کے پاس مضبوط سبسکرپشن نظام نہیں، محدود تکنیکی صلاحیتیں ہیں اور بہت سے اداروں کو یہ بھی واضح علم نہیں کہ اے آئی نظام ان کے تیار کردہ مواد کو کس پیمانے پر حاصل اور استعمال کررہے ہیں
یورپی یونین نے اس مسئلے کے بعض پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں،مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل کیے گئے بعض مواد، خصوصاً جعلی ویڈیوز اور عوامی اہمیت کے معاملات سے متعلق غیر ترمیم شدہ مواد کے لیے شناخت ظاہر کرنے کی شرائط عائد کی گئی ہیں،بڑے اے آئی ماڈلز کے فراہم کنندگان کو حقوقِ اشاعت سے متعلق پالیسیوں پر عمل درآمد اور تربیتی مواد کے خلاصے شائع کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے،انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے تیار کیے گئے بعض نظاموں کو زیادہ خطرے والے نظاموں میں شمار کیا گیا ہے
تاہم بنیادی سوال اب بھی حل طلب ہے
کیا اے آئی معاون کو صارف کے سامنے کئی معتبر ذرائع پیش نہیں کرنے چاہئیں؟ کیا اسے یہ نہیں بتانا چاہیے کہ اس نے ایک ذریعے کو دوسرے پر ترجیح کیوں دی؟ کیا اصل خبر کی طرف نمایاں طور پر رہنمائی ضروری نہیں ہونی چاہیے؟ اور سب سے اہم، جس صحافتی ادارے کی محنت سے اے آئی کو جواب تیار کرنے کے لیے معلومات ملتی ہیں، اسے اس محنت کا معاشی معاوضہ کون دے گا؟
مصنوعی ذہانت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی تیزی سے جواب دیتی ہے،اصل امتحان یہ ہے کہ وہ سچ تک رسائی کو کتنا شفاف بناتی ہے
اگر اے آئی صارف کو صرف ایک پراعتماد جواب دیتی رہی اور اس جواب کے پیچھے موجود صحافت، شواہد، اختلافات اور اصل ذرائع نظروں سے اوجھل ہوتے گئے تو مسئلہ صرف غلط خبر کا نہیں ہوگا۔ مسئلہ یہ ہوگا کہ عوام کے پاس خبر موجود ہوگی، مگر یہ جاننے کا اختیار کم ہوتا جائے گا کہ خبر کس نے بنائی، کس بنیاد پر بنائی اور کیا چیز ان سے چھپا دی گئی

قومی خبریں سے مزید