اے ڈی ایچ ڈی صرف دماغ تک محدود نہیں، جسم پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے

اے ڈی ایچ ڈی صرف دماغ تک محدود نہیں، جسم پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے

توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ سرگرمی کی کیفیت، جسے اے ڈی ایچ ڈی کہا جاتا ہے، عام طور پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، بے قراری اور جذباتی بے قابو پن سے جوڑی جاتی ہے، لیکن سائنسی شواہد بتا رہے ہیں کہ اس کے اثرات دماغ اور رویے تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسمانی صحت پر بھی پڑ سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی میں دماغ کے وہ نظام متاثر ہوتے ہیں جو توجہ، منصوبہ بندی، خود پر قابو، حرکت اور جذباتی ردعمل کو منظم کرتے ہیں،اس کے نتیجے میں متاثرہ افراد میں روزمرہ معمولات برقرار رکھنا، کھانے کی منصوبہ بندی، باقاعدہ نیند اور جسمانی سرگرمی جیسے بنیادی امور بھی مشکل ہو سکتے ہیں
اے ڈی ایچ ڈی اور جسمانی صحت کے درمیان تعلق کے حوالے سے حالیہ تحقیق میں دل اور میٹابولک صحت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے،تحقیق کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے افراد میں موٹاپے، ذیابیطس، خون میں کولیسٹرول کی خرابی اور دل کی بیماریوں کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔ سویڈن میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد کے اعداد و شمار پر ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں اے ڈی ایچ ڈی کو مختلف قلبی بیماریوں کے لیے ایک آزاد خطرے کا عامل قرار دیا گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعلق کی ایک وجہ اے ڈی ایچ ڈی سے وابستہ روزمرہ عادات بھی ہو سکتی ہیں،متاثرہ افراد میں کھانے کے اوقات میں بے قاعدگی، فوری اور غیر صحت بخش خوراک کا انتخاب، ضرورت سے زیادہ کھانا، نیند کے مسائل اور بعض صورتوں میں تمباکو نوشی کا امکان زیادہ ہوتا ہے،یہ عوامل طویل عرصے میں وزن، کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور دل کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں
تاہم سائنس دانوں کے نزدیک معاملہ صرف طرز زندگی تک محدود نہیں،تحقیق اس امکان کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی اور قلبی و میٹابولک بیماریوں کے درمیان کچھ مشترکہ حیاتیاتی اور جینیاتی عوامل موجود ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین اب دماغ، اعصابی نظام، ہارمونز، خوراک اور دل کی صحت کے درمیان تعلق کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں
نیند بھی اس پورے سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،اے ڈی ایچ ڈی سے وابستہ توجہ اور روزمرہ معمولات کے مسائل نیند کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ خراب نیند دوبارہ توجہ، جذباتی توازن اور جسمانی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اے ڈی ایچ ڈی ہر فرد میں ایک جیسی شکل اختیار نہیں کرتا،اس کی علامات اور شدت مختلف افراد میں مختلف ہو سکتی ہے اور کسی شخص میں موجود جسمانی مسئلے کو محض اے ڈی ایچ ڈی سے منسوب کرنا درست نہیں۔ جسمانی علامات کی صورت میں دوسری ممکنہ طبی وجوہات کا جائزہ بھی ضروری ہے
سائنسی تحقیق کا بڑھتا ہوا دائرہ اب اے ڈی ایچ ڈی کو صرف توجہ یا رویے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسی کیفیت کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے اثرات انسان کی مجموعی صحت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں تک پھیل سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید