Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کراچی کے صالح آصف کی کمپنی کرسر 60 ارب ڈالر میں ایلون مسک کے اسپیس ایکس کا حصہ بن گئی، بانی ٹیم برقرار مگر اے آئی کی دوڑ میں مسک نے اینتھروپک کو سب سے بڑا حریف قرار دے دیا

کراچی کے صالح آصف کی کمپنی کرسر 60 ارب ڈالر میں ایلون مسک کے اسپیس ایکس کا حصہ بن گئی، بانی ٹیم برقرار مگر اے آئی کی دوڑ میں مسک نے اینتھروپک کو سب سے بڑا حریف قرار دے دیا

واشنگٹن: ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی سے سافٹ ویئر تیار کرنے والے معروف پلیٹ فارم کرسر کی مالک کمپنی اینی اسفیئر کو تقریباً 60 ارب ڈالر کے آل اسٹاک معاہدے میں اپنے قبضے میں لے لیا ہے،یہ وہی کمپنی ہے جس کے شریک بانیوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانی نژاد امریکی صالح آصف بھی شامل ہیں
یہ حصول اب مکمل ہو چکا ہے اور کرسر اسپیس ایکس کا حصہ بن چکا ہے،تاہم دستیاب معلومات سے یہ تاثر درست نہیں کہ مسک نے کمپنی خریدنے کے بعد اس کے بانیوں کو فارغ کر دیا ہے،اس کے برعکس، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی مائیکل ٹروئل سمیت بانی ٹیم کے اہم ارکان اسپیس ایکس کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں،تازہ رپورٹس کے مطابق ٹروئل اب براہِ راست ایلون مسک کو جواب دہ ہیں
کرسر دراصل اینی اسفیئر کی بنائی ہوئی مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سروس ہے، جو پروگرامرز کو کوڈ لکھنے، تبدیل کرنے، غلطیاں دور کرنے اور مختلف سافٹ ویئر تیار کرنے میں اے آئی کی مدد فراہم کرتی ہے،کمپنی کی بنیاد 2022 میں ایم آئی ٹی سے وابستہ چار نوجوانوں، مائیکل ٹروئل، صالح آصف، امان سنگر اور آروِڈ لُن مارک نے رکھی تھی
صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ کمپنی کے شریک بانی ہیں،آصف نے پاکستان کی نمائندگی بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں بھی کی اور بعد میں ایم آئی ٹی میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ملاقات کرسر کے دیگر بانیوں سے ہوئی،ان کے ساتھ شریک بانیوں میں امان سنگر بھی شامل ہیں، جو بھارتی نژاد امریکی ہیں
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مائیکل ٹروئل ہیں، جبکہ آصف کمپنی کے شریک بانی اور اہم تکنیکی و مصنوعات سے متعلق کردار میں رہے ہیں،چنانچہ یہ کہنا درست نہیں کہ کرسر کسی ایک پاکستانی نوجوان کی ذاتی کمپنی تھی، بلکہ صالح آصف اس چار رکنی بانی ٹیم کا اہم حصہ ہیں جس نے کرسر کو چند ہی برسوں میں مصنوعی ذہانت کی دنیا کے انتہائی قیمتی کاروباروں میں تبدیل کیا
اسپیس ایکس اور کرسر کے درمیان تعلق دراصل 60 ارب ڈالر کے حصول سے کئی ماہ پہلے قائم ہو چکا تھا،اپریل 2026 میں اسپیس ایکس نے کرسر کے ساتھ شراکت داری شروع کی اور اسے بعد میں تقریباً 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا اختیار حاصل کیا تھا،جون میں اسپیس ایکس نے اس خریداری کے حتمی معاہدے کا اعلان کیا اور اگست میں لین دین مکمل ہو گیا
اس معاہدے کی سب سے بڑی کشش کرسر کی سافٹ ویئر انجینئرنگ کی صلاحیت اور اسپیس ایکس کے وسیع کمپیوٹنگ وسائل کا امتزاج ہے،کرسر کے پاس مصنوعی ذہانت کے ذریعے پروگرامنگ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کو تیز کرنے والی ٹیکنالوجی اور ایک انتہائی ماہر انجینئرنگ ٹیم ہے، جبکہ اسپیس ایکس کے پاس بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ اور جی پی یو بنیادی ڈھانچہ موجود ہے
اسی پس منظر میں ایلون مسک نے حصول مکمل ہونے کے بعد کرسر کے ایک ہزار سے زیادہ ملازمین سے اپنے پہلے آل ہینڈز خطاب میں کمپنی کی موجودہ اے آئی پوزیشن کے بارے میں غیر معمولی طور پر کھل کر بات کی،دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسک نے اعتراف کیا کہ ان کی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی اور اس کا ماڈل گروک مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں بعض اہم حریفوں سے پیچھے ہیں اور انہوں نے خاص طور پر اینتھروپک کو ایک انتہائی مضبوط حریف قرار دیا
مسک نے مبینہ طور پر ملازمین کو یہ پیغام دیا کہ وہ ہارنے کے عادی نہیں اور اب کرسر کی انجینئرنگ ٹیم اور اسپیس ایکس کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے گروک اور دیگر اے آئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں،تازہ رپورٹ کے مطابق کرسر کے حصول کے بعد مسک کا مقصد محض ایک سافٹ ویئر کمپنی کو اپنے کاروباری گروپ میں شامل کرنا نہیں بلکہ اے آئی کی دوڑ میں ایک ایسی مربوط طاقت تیار کرنا ہے جو اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل جیسے حریفوں کا مقابلہ کر سکے
اس بڑے معاہدے نے کرسر کے چاروں نوجوان بانیوں کو بھی ارب پتی بنا دیا ہے،فوربز کے ابتدائی اندازوں کے مطابق معاہدہ مکمل ہونے پر چاروں شریک بانیوں کی دولت تقریباً 2.7 ارب ڈالر فی کس تک پہنچ سکتی تھی
صالح آصف کے لیے یہ کامیابی خاص طور پر غیر معمولی ہے،کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے بین الاقوامی ریاضی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی سے سفر شروع کیا، ایم آئی ٹی پہنچے، وہاں تین ساتھی طلبہ کے ساتھ ایک نئی کمپنی قائم کی اور صرف چند برسوں میں اس کمپنی کو دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی معاہدوں میں سے ایک تک پہنچا دیا
کرسر کے اسپیس ایکس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بانیوں کو باہر کر دیا گیا ہے،دستیاب شواہد کے مطابق بانی ٹیم اب بھی اس منصوبے کا حصہ ہے، لیکن کمپنی کی ملکیت اور حتمی انتظامی اختیار اب اسپیس ایکس کے پاس ہے،یوں صالح آصف اور ان کے ساتھیوں نے اپنی کمپنی کھوئی ضرور ہے، مگر اسے چھوڑا نہیں؛ انہوں نے اسے دنیا کے امیر ترین ٹیکنالوجی کاروباری شخص ایلون مسک کی قیادت میں ایک ایسے نئے مرحلے میں پہنچایا ہے جہاں کرسر کی ٹیکنالوجی کو اسپیس ایکس کے وسیع وسائل کے ساتھ ملا کر عالمی اے آئی دوڑ میں دوبارہ برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید