Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ کے 2026 انتخابات میں اصل سیاسی امتحان کہاں ہوگا؟ سترہ صحافیوں نے ایسے انتخابی مقابلوں کی نشاندہی کر دی جو 2028 کی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں

امریکہ کے 2026 انتخابات میں اصل سیاسی امتحان کہاں ہوگا؟ سترہ صحافیوں نے ایسے انتخابی مقابلوں کی نشاندہی کر دی جو 2028 کی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں

واشنگٹن: امریکہ کے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کی جدوجہد اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پولیٹیکو میگزین کے 17 سینئر صحافیوں اور ایڈیٹرز نے ایسے انتخابی مقابلوں کی نشاندہی کی ہے جن کی اہمیت محض نشستوں کی تعداد یا جماعتی کامیابی سے کہیں آگے ہے،ان کے نزدیک ان انتخابات کے نتائج ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نظریاتی کشمکش، ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرنے والی آبادیاتی تبدیلیوں، اور 2028 کے صدارتی انتخابات کے سیاسی نقشے کے بارے میں اہم اشارے فراہم کریں گے
پولیٹیکو کے تجزیے میں کینساس کی سینیٹ کی دوڑ کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جہاں ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار اور پادری ایڈم ہیملٹن سے ہے،اس مقابلے کو اس سوال کا امتحان قرار دیا گیا ہے کہ آیا ڈیموکریٹس مذہبی اور دیہی امریکہ میں اپنا کھویا ہوا اثر دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں،ہیملٹن انتخابی مہم میں اپنی مذہبی شناخت کو نمایاں رکھتے ہیں، ووٹروں کے لیے دعا کرتے ہیں اور بائبل کے حوالے دیتے ہیں،جب ان کے مخالفین انہیں ترقی پسند یا حد سے زیادہ لبرل قرار دیتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ آج موجود ہوتے تو مخالفین انہیں بھی حد سے زیادہ لبرل کہتے،انہوں نے ساحلی ریاستوں کے ڈیموکریٹس سے بھی اپنا فاصلہ واضح رکھا ہے،پولیٹیکو کے مطابق یہ مقابلہ اس بات کا اشارہ دے سکتا ہے کہ مذہبی اقدار اور مقامی ثقافت سے ہم آہنگ امیدوار ڈیموکریٹس کے لیے مڈویسٹ میں نئی راہیں کھول سکتے ہیں یا نہیں
شمالی کیرولائنا میں کانگریس کی ایک نشست بھی اس تجزیے میں شامل ہے، جہاں ڈیموکریٹ رکن کانگریس ڈان ڈیوس کی دوبارہ کامیابی کی کوشش غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے،ری پبلکنز نے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی اس مقصد سے کی تھی کہ ڈیوس کو شکست دینا آسان ہو، لیکن پولیٹیکو کے مطابق یہ تبدیلی الٹا ان کے قریبی ری پبلکن رکن کانگریس گریگ مرفی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے،مرفی کا حلقہ اب بھی ری پبلکنز کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم نئی حدبندی نے ان کی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہنے دی،اس مثال سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ انتخابی نقشے کو اپنی جماعت کے حق میں بدلنے کی کوشش کہیں خود اسی جماعت کے لیے نقصان دہ تو نہیں بن سکتی
کیلیفورنیا میں ارب پتی افراد پر ایک مرتبہ خصوصی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز، پروپوزیشن 40، کو دولت اور عوامی سیاست کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کا امتحان قرار دیا گیا ہے،اس تجویز کے تحت ارب پتی افراد سے حاصل ہونے والی رقم صحت کی سہولتوں کے لیے مختص کی جائے گی،پولیٹیکو کے صحافی ول میکارتھی کے مطابق یہ اقدام اس بات کا پیمانہ بن سکتا ہے کہ کیلیفورنیا جیسے ڈیموکریٹک ریاست میں ووٹر انتہائی امیر طبقے کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ سے کس حد تک ناراض ہیں،اس مہم کو ایک منتشر حمایت یافتہ اتحاد، کمزور عوامی نمائندگی اور مالی وسائل سے مالامال مخالفین کا سامنا ہے،اگر ووٹر اس کے باوجود تجویز منظور کرتے ہیں تو یہ بائیں بازو کی عوامی مقبولیت پر مبنی سیاست کے لیے اہم اشارہ ہوگا، جبکہ ناکامی اس تحریک کی حدود بھی ظاہر کر سکتی ہے
اوہائیو کی سینیٹ کی دوڑ میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براؤن کی واپسی کی کوشش کو بھی قومی سیاست کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے،73 سالہ براؤن ری پبلکن امیدوار کے خلاف دوبارہ سینیٹ میں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں،پولیٹیکو کے تجزیے کے مطابق ان کی کامیابی صرف ایک نشست واپس حاصل کرنے کا معاملہ نہیں ہوگی،اصل اہمیت اس بات میں ہوگی کہ آیا وہ شمال مشرقی اوہائیو کی صنعتی وادی مہوننگ جیسے علاقوں کے محنت کش ووٹروں کو دوبارہ ڈیموکریٹک جماعت کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں،یہی وہ طبقہ تھا جس کی حمایت نے ماضی میں ڈیموکریٹس کو طاقت دی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں اسی ووٹر گروپ میں اپنی مقبولیت کے ذریعے اوہائیو سمیت کئی ریاستوں کا سیاسی رجحان تبدیل کیا،اگر براؤن محنت کش طبقے اور ٹرمپ مخالف تعلیم یافتہ ووٹروں کو ایک انتخابی اتحاد میں جمع کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات 2028 کی حکمت عملی پر بھی پڑ سکتے ہیں
مصنوعی ذہانت کی صنعت پر کنٹرول اور اس کے ممکنہ نقصانات کا سوال بھی کیلیفورنیا کے ایک ریاستی سینیٹ انتخاب میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے،ریاستی سینیٹر اسکاٹ وینر نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن اثرات کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کی حمایت کی ہے اور کیلیفورنیا کا پہلا ایسا قانون تیار کیا تھا جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے خطرات سے تحفظ فراہم کرنا تھا،ان کی حمایت میں مصنوعی ذہانت کی صنعت سے وابستہ بعض ملازمین اور اعلیٰ عہدیداروں کی مالی معاونت سے قائم سپر پیک گروپوں نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں،ان کے مقابلے میں سان فرانسسکو کی سپروائزر کونی چن کا مؤقف ہے کہ وینر مصنوعی ذہانت کی صنعت کے بہت قریب ہیں،چن ڈیٹا سینٹرز پر پابندی، ملازمین کی نگرانی اور بڑی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اختیار جیسے معاملات پر زیادہ سخت مؤقف رکھتی ہیں،پولیٹیکو کی کرسٹین ہوئی کے مطابق یہ مقابلہ بتائے گا کہ ڈیموکریٹک ووٹر مصنوعی ذہانت کے خطرات کو محدود کرنے کے لیے تکنیکی ضابطوں کے حامی امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں یا صنعت کی توسیع پر زیادہ سخت پابندیاں چاہتے ہیں
اوہائیو کے ساتویں کانگریشنل ضلع میں ری پبلکن رکن کانگریس میکس ملر کو بھی ایک مختلف نوعیت کے سیاسی امتحان کا سامنا ہے،ان کی سابق اہلیہ نے ان پر گھریلو تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں،سابق اہلیہ ریاست کے ری پبلکن سینیٹر برنی مورینو کی بیٹی بھی ہیں۔ ملر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، لیکن اس تنازعہ نے ایک ایسے حلقے میں ان کی انتخابی مہم کو غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جسے روایتی طور پر ری پبلکنز کا مضبوط علاقہ سمجھا جاتا ہے،پولیٹیکو نے اس مقابلے کو اس سوال سے جوڑا ہے کہ سیاسی وابستگی اور جماعتی وفاداری کے مقابلے میں ووٹر کسی امیدوار کے خلاف سنگین الزامات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں
کیلیفورنیا کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار زاویر بیسیرا کی مہم کو بھی ریاست کی سیاست کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا گیا ہے،بیسیرا سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، لیکن پولیٹیکو کے سینئر ایگزیکٹو ایڈیٹر الیگزینڈر برنز کے مطابق ان کی انتخابی مہم کم نمایاں رہی ہے اور انہوں نے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کے مرکز کیلیفورنیا کے مستقبل کے لیے واضح منصوبے پیش نہیں کیے،گزشتہ مرتبہ گورنر کے انتخاب میں گیون نیوزوم نے ری پبلکن امیدوار کو 24 پوائنٹس سے شکست دی تھی،اب سوال یہ ہے کہ آیا بیسیرا بھی اتنے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں یا ان کی کمزور انتخابی مہم انہیں ایک غیر متوقع گورنر بنا کر چھوڑ دے گی، جسے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا
ٹینیسی کے ساتویں کانگریشنل ضلع میں ڈیموکریٹ ریاستی نمائندے جسٹن پیئرسن کی انتخابی مہم کو ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے،یہ حلقہ پہلے ریاست کی واحد ایسی نشست تھا جہاں سیاہ فام آبادی اکثریت میں تھی اور جس کی نمائندگی ڈیموکریٹس کے پاس تھی،لیکن ریاستی ری پبلکن قانون سازوں نے مئی میں اس کی نئی حدبندی کی، جس کے نتیجے میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں یہ حلقہ ٹرمپ کے حق میں 21 پوائنٹس سے جھک گیا،اس کے باوجود 31 سالہ پیئرسن نے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مہم چلا کر مقابلے کو سنجیدہ بنا دیا ہے،ان کی تنقید کا ایک اہم ہدف ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں،یہ مقابلہ اس بات کا اشارہ دے سکتا ہے کہ مقامی آبادی بجلی، ماحول اور بڑے ٹیکنالوجی منصوبوں کے اثرات کے معاملے میں کس حد تک سیاسی طور پر متحرک ہو سکتی ہے
نیویارک میں گورنر کیتھی ہوکل کی دوبارہ انتخابی مہم کو بھی ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم انتباہ قرار دیا گیا ہے،اگرچہ ہوکل کو کامیابی کے لیے نسبتاً مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، لیکن ان کی مقبولیت اور کارکردگی کی درجہ بندی میں کمزوری موجود ہے،بعض جائزوں کے مطابق آزاد ووٹر ری پبلکن امیدوار بروس بلیک مین کی طرف مائل ہو رہے ہیں،ہوکل کو ایک طرف ان ترقی پسند ووٹروں کو اپنے ساتھ رکھنا ہے جنہوں نے گزشتہ برس نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی حمایت کی تھی، اور دوسری طرف بزرگ سیاہ فام اور یہودی ووٹروں کی حمایت بھی برقرار رکھنی ہے جو ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش رکھتے ہیں،پولیٹیکو کے نک رائز مین کے مطابق اگر ہوکل کی کارکردگی کمزور رہی تو اس کا اثر نیویارک کے متعدد کانگریشنل حلقوں پر پڑ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کا موقع بھی کھو دیں
ٹیکساس کی سینیٹ کی دوڑ کو 2028 کے سیاسی نقشے کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے،اس مقابلے میں ری پبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کی سرگرمیاں بھی توجہ کا مرکز ہیں، خصوصاً کین پیکسٹن کی حمایت میں ان کا کردار،پولیٹیکو کے مطابق پیکسٹن کی کامیابی کروز کو ٹیکساس کی ری پبلکن سیاست میں ایک طاقتور فیصلہ ساز اور بڑے مالی عطیات دینے والے حلقوں تک رسائی رکھنے والے رہنما کے طور پر مضبوط کر سکتی ہے،اس سے کروز کی 2028 میں وائٹ ہاؤس کے لیے ممکنہ سیاسی تیاریوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے،دوسری طرف اگر پیکسٹن ناکام رہتے ہیں تو اس کا نقصان صرف ری پبلکن پارٹی کو نہیں بلکہ کروز کی اپنی سیاسی حیثیت کو بھی پہنچ سکتا ہے
کیلیفورنیا کے دوسرے کانگریشنل ضلع میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیرڈ ہفمین کی دوبارہ کامیابی کو بظاہر یقینی سمجھا جا رہا ہے، لیکن پولیٹیکو کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ نئی انتخابی حدبندی کے بعد ان کے حلقے کی سیاسی اور معاشی ترجیحات کس طرح بدلیں گی،نئی حدبندی نے ان کے ترقی پسند اور ماحولیاتی پالیسیوں کے حامی خلیجی علاقے کے بعض حصوں کو حلقے سے نکال کر ایسے دیہی علاقوں کو شامل کیا ہے جہاں لکڑی کی صنعت اور مویشی بانی معیشت کا اہم حصہ ہیں،اگر ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت ملتی ہے تو ہفمین کو قدرتی وسائل کی کمیٹی کی سربراہی ملنے کا امکان ہے،ایسی صورت میں ان کے نئے حلقے کے مقامی معاشی مفادات قومی ماحولیاتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
فلوریڈا کے 27ویں کانگریشنل ضلع میں ہسپانوی ووٹروں کا رجحان اہم موضوع بن گیا ہے،2024 کے صدارتی انتخاب میں ہسپانوی ووٹروں کے ایک بڑے حصے نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی، لیکن اب ان میں سے بعض ووٹرز کی امیگریشن پالیسیوں سے ناراضگی ری پبلکنز کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے،ری پبلکن رکن کانگریس ماریا ایلویرا سالازار نے ایک ٹی وی اشتہار میں براہ راست ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ملک بدری کی پالیسی حد سے آگے نکل گئی ہے،اس اشتہار پر ٹرمپ نے تنقید بھی کی،پولیٹیکو کی کمبرلی لیونارڈ کے مطابق یہ انتخاب بتائے گا کہ آیا سالازار اپنی جماعت کی قیادت سے اختلاف ظاہر کرکے ہسپانوی ووٹروں کا اعتماد برقرار رکھ سکتی ہیں یا نہیں
جارجیا کے گورنر کا انتخاب بھی 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اہم سیاسی اثرات رکھتا ہے،ری پبلکن امیدوار رک جیکسن کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس باٹمز سے ہے،جیکسن کی انتخابی مہم کے پہلے اشتہار میں ریاست کے سیکریٹری آف اسٹیٹ بریڈ رافنسپرگر کو جوڈاس قرار دیا گیا تھا، کیونکہ انہوں نے 2020 کے انتخاب کے بعد ٹرمپ کے دباؤ پر ووٹ تلاش کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی تھی،جیکسن نے بعد میں جو بائیڈن کی 2020 کی کامیابی کو تسلیم کیا اور وعدہ کیا کہ وہ کسی بھی صدر کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے،تاہم باٹمز نے ان کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا ہے،اس انتخاب کا ایک اور پہلو کانگریشنل حلقوں کی ممکنہ نئی حدبندی ہے،جیکسن مڈٹرم انتخابات سے پہلے انتخابی نقشہ دوبارہ بنانے کی حمایت کر چکے ہیں، جس سے ری پبلکنز کو کانگریس میں اضافی نشستیں مل سکتی ہیں
نیو ہیمپشائر کی سینیٹ کی دوڑ میں ٹرمپ کی عالمی تجارتی پالیسی اور محصولات کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے،ڈیموکریٹ امیدوار اور رکن کانگریس کرس پاپاس نے ٹرمپ کے عالمی محصولات ختم کرنے کو اپنی انتخابی مہم کا اہم وعدہ بنایا ہے،ان کے مقابلے میں سابق ری پبلکن سینیٹر جان سنونو کا مؤقف ہے کہ کم از کم کینیڈا اور تعمیراتی سامان پر عائد محصولات ختم ہونے چاہئیں،پولیٹیکو کے بین الاقوامی تجارت کے رپورٹر ڈینیئل ڈیشروشرز کے مطابق یہ مقابلہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کی روایتی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی کا امتحان بھی ہے،اگر پاپاس ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ناخوش ووٹروں کی حمایت برقرار رکھتے ہیں تو اس کے اثرات آنے والے برسوں کی تجارتی پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں
پولیٹیکو کے سیاسی بیورو چیف اور سینئر کالم نگار جوناتھن مارٹن نے آئیووا کو پورے انتخابی دور کا اہم ترین سیاسی پیمانہ قرار دیا ہے،ان کے مطابق امریکہ کی بہت کم ریاستوں میں اوباما کے دور سے ٹرمپ کے دور تک اتنی تیزی سے سیاسی تبدیلی آئی جتنی آئیووا میں دیکھی گئی،کبھی ڈیموکریٹس کے لیے مضبوط سمجھی جانے والی یہ ریاست بعد میں ری پبلکنز کا گڑھ بن گئی،تاہم یہاں کانگریشنل حلقوں کی حدبندی ایک غیر جماعتی ادارہ کرتا ہے، جس کے باعث ڈیموکریٹس کو ریاست کی چار میں سے تین نشستیں حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، حالانکہ یہ چاروں نشستیں اس وقت ری پبلکنز کے پاس ہیں،مارٹن کے مطابق آئیووا کے نتائج یہ بتانے میں مدد دیں گے کہ ڈیموکریٹس سفید فام آبادی والے بالائی مڈویسٹ میں کتنا سیاسی میدان دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں اور ان کی ممکنہ انتخابی لہر کتنی بڑی ہو سکتی ہے
پولیٹیکو کے ان صحافیوں کے انتخاب سے واضح ہوتا ہے کہ 2026 کے مڈٹرم انتخابات کو صرف سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی نشستوں کے حساب سے نہیں دیکھا جا رہا،ان مقابلوں میں مذہب اور سیاست کا تعلق، محنت کش طبقے کی وفاداریاں، ہسپانوی ووٹروں کا بدلتا رجحان، مصنوعی ذہانت کی صنعت، ارب پتی طبقے کا سیاسی اثر، امیگریشن، تجارتی محصولات اور انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی جیسے موضوعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،ان نتائج سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ٹرمپ کے دور میں امریکی سیاست کس سمت جا رہی ہے اور 2028 کے صدارتی انتخاب سے پہلے دونوں جماعتوں کو اپنے ووٹر اتحاد، سیاسی پیغام اور انتخابی حکمت عملی میں کن تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید