Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹیکساس:مڈٹرم انتخابات سے پہلے ریکارڈ ووٹنگ، 74 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ابتدائی ووٹ ڈال دیا، ڈیموکریٹس کے لیے شہری اور مضافاتی علاقوں سے نئی امید

ٹیکساس:مڈٹرم انتخابات سے پہلے ریکارڈ ووٹنگ، 74 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ابتدائی ووٹ ڈال دیا، ڈیموکریٹس کے لیے شہری اور مضافاتی علاقوں سے نئی امید

ٹیکساس میں 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ابتدائی ووٹنگ نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے،ریاست کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق 2026 کے انتخابات میں 74 لاکھ سے زیادہ شہری پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، جو ریاست میں مڈٹرم انتخابات کے دوران 2018 کے ریکارڈ کے برابر ہے،ریاست میں ابتدائی ووٹنگ کا آخری دن جمعہ تھا،اس تعداد کے مطابق تقریباً 39 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز انتخابی دن سے پہلے اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں
ٹیکساس میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں،یہ تعداد نومبر 2024 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں 2.2 فیصد زیادہ ہے،اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد تقریباً 4 لاکھ سے زیادہ نئے ووٹرز رجسٹر ہوئے ہیں،تاہم ٹیکساس میں ووٹرز کی رجسٹریشن ڈیموکریٹک یا ریپبلکن جماعت کی بنیاد پر نہیں ہوتی، اس لیے دونوں جماعتوں کے رجسٹرڈ ووٹروں کی الگ الگ سرکاری تعداد دستیاب نہیں
انتخابی تجزیہ کاروں کے لیے اس مرتبہ ابتدائی ووٹنگ کے اعدادوشمار میں سب سے اہم پہلو ووٹروں کا سیاسی اور نسلی پس منظر ہے،ابتدائی ووٹنگ کے پہلے ہفتے کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 35 فیصد ووٹرز ایسے تھے جنہوں نے گزشتہ پرائمری انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیا تھا، جبکہ 33 فیصد نے ریپبلکن پرائمری میں حصہ لیا تھا،یہ اعدادوشمار ابتدائی ووٹنگ میں دونوں جماعتوں سے وابستہ سابق پرائمری ووٹروں کی شرکت ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ ان کی موجودہ جماعتی رجسٹریشن
نسلی اعتبار سے ہسپانوی ووٹروں کی شرکت بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے،ابتدائی ووٹنگ میں ان کا حصہ تقریباً 18 فیصد رہا، جو 2024 کے مقابلے میں ایک فیصد اور 2022 کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ بتایا گیا ہے،ڈیموکریٹس کے لیے ہسپانوی اور سیاہ فام ووٹروں کی زیادہ شرکت اہم ہے، کیونکہ ریاست کے بڑے شہری علاقوں میں ان طبقات کی انتخابی طاقت نمایاں ہے
ہیوسٹن، ڈیلس اور ٹیرنٹ کاؤنٹی سمیت بڑے شہری اور مضافاتی علاقوں میں ووٹنگ کی سرگرمی کو بھی انتخابی مبصرین خاص اہمیت دے رہے ہیں،ان علاقوں میں ڈیموکریٹس روایتی طور پر بہتر انتخابی حمایت حاصل کرتے رہے ہیں،دوسری جانب تیزی سے پھیلتے ہوئے مضافاتی علاقوں میں نئے ووٹروں کی رجسٹریشن اور شرکت بھی دونوں جماعتوں کے لیے اہم ہو گئی ہے،نوجوان ووٹرز، ہسپانوی شہری اور مختلف نسلی پس منظر رکھنے والے خاندان اس انتخابی مقابلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
اس مرتبہ ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست کا مقابلہ بھی قومی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے،ڈیموکریٹک امیدوار اور ریاستی رکن اسمبلی جیمز ٹالاریکو کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار اور اٹارنی جنرل کین پیکسٹن سے ہے،دونوں کے درمیان سخت مقابلے نے ٹیکساس کے انتخابات کو قومی سیاست کا اہم میدان بنا دیا ہے،ریاستی رکن اسمبلی جینا ہینوجوسا کا انتخابی مقابلہ بھی قومی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے
رائس یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر مارک جونز کے مطابق ووٹنگ کی شرح غیر معمولی طور پر بلند ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ابھی کتنے ووٹرز انتخابی دن اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے باقی ہیں،ان کے مطابق ابتدائی ووٹنگ کے اعدادوشمار سے انتخابی نتائج کا حتمی اندازہ لگانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے
ٹیکساس میں اس مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ نے دونوں جماعتوں کے لیے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں،ڈیموکریٹس کی امید شہری علاقوں، ہسپانوی ووٹروں، نوجوانوں اور مضافاتی علاقوں میں بڑھتی ہوئی شرکت سے وابستہ ہے، جبکہ ریپبلکنز کو بھی ابتدائی ووٹنگ میں اپنے سابق پرائمری ووٹروں کی نمایاں شرکت سے حوصلہ مل سکتا ہے،حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ 3 نومبر کو باقی ووٹرز کس تعداد میں نکلتے ہیں اور ان کے ووٹ کس جماعت کے امیدواروں کے حق میں جاتے ہیں

قومی خبریں سے مزید