Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مڈٹرم انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس نے بائیڈن کی امیگریشن پالیسی سے لاتعلقی اختیار کر لی، اہم ریاستوں میں امیگریشن پر اپنی ہی جماعت کے سابق صدر کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

مڈٹرم انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس نے بائیڈن کی امیگریشن پالیسی سے لاتعلقی اختیار کر لی، اہم ریاستوں میں امیگریشن پر اپنی ہی جماعت کے سابق صدر کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

واشنگٹن میں مشہور ہے اگر دوست چاہیئے تو کتا پال لو، کہ سیاست میں جیت کے لیے وہی اصول ہے جو عشق اور جنگ میں کہ پانے اور جیتنے کے لیے “ سب جائز ہے “
امریکہ میں 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اہم امیدواروں نے سابق صدر جو بائیڈن کی سرحدی اور امیگریشن پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی ہے،سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اہم انتخابی حلقوں میں یہ نئی حکمت عملی اس بات کی علامت ہے کہ ڈیموکریٹس اب امیگریشن کے معاملے پر اپنی سابقہ حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرنے کے بجائے ان سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں
این بی سی نیوز کی 31 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، اہم انتخابی ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن دور کی سرحدی پالیسی کو سیاسی کمزوری سمجھتے ہوئے اس پر تنقید کر رہے ہیں،ان کا مقصد ریپبلکنز کی جانب سے امیگریشن کے معاملے پر ہونے والی تنقید کا جواب دینا اور ان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہے جن کے نزدیک سرحدی تحفظ ایک اہم انتخابی مسئلہ ہے
ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے اپنی انتخابی تشہیری مہم میں واضح طور پر کہا ہے کہ انہوں نے سرحدی تحفظ کے معاملے میں جو بائیڈن کی ناکامی پر آواز اٹھائی تھی،وہ ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے ساتھ سخت مقابلے میں ہیں،ٹالاریکو نے جولائی میں اپنا سرحدی تحفظ کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ بائیڈن جنوبی سرحد کے معاملے میں عوام کو مایوس کرنے کے ذمہ دار تھے
ریاست کنساس میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کے ساتھ انتخابی مباحثے میں بائیڈن کی امیگریشن پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بالکل واضح رہنا چاہتے ہیں کہ بائیڈن کے دور میں سرحد پر امیگریشن کی صورتحال تباہ کن تھی اور آج کے حالات اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں
یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی طویل عرصے سے امیگریشن اور سرحدی تحفظ کے معاملے پر ریپبلکنز کی تنقید کا سامنا کرتی رہی ہے،اب پارٹی کے امیدوار خود بائیڈن کی پالیسیوں کو اپنی انتخابی مہم میں ناکامی قرار دے رہے ہیں
اس سیاسی حکمت عملی کا بڑا امتحان ٹیکساس اور کنساس جیسی ریاستوں میں ہوگا، جہاں سینیٹ کی نشستوں کے نتائج کانگریس میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،ڈیموکریٹس کی کوشش ہے کہ سرحدی تحفظ کے معاملے پر بائیڈن سے فاصلہ اختیار کرکے وہ ان ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کریں جو گزشتہ انتخابات میں امیگریشن کے مسئلے پر ان سے ناراض ہوئے تھے

قومی خبریں سے مزید