عمران خان کو لیکر نئی لڑائ، طبی معائنے کے بعد اڈیالہ جیل واپس، سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر حکومت کھیل گئی ؟

عمران خان کو لیکر نئی لڑائ، طبی معائنے کے بعد اڈیالہ جیل واپس، سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے طریقۂ کار پر حکومت کھیل گئی ؟

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جمعہ کی صبح طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، تاہم ان کے طبی معائنے کا مقام سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز رہا،سرکاری مؤقف کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو پی آئی ایم ایس لے جایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور بعد ازاں انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا
یہ پیش رفت سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس عبوری حکم کے بعد ہوئی جس میں عدالت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، وہاں طبی معائنہ اور علاج کرانے اور آئندہ سماعت تک اسپتال میں رکھنے کی ہدایت کی تھی،عدالت نے آئندہ سماعت 16 ستمبر مقرر کی تھی،حکم کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے ایک طبی بورڈ تشکیل دیا جانا تھا جس میں معالج، جنرل سرجن، داخلی امراض کے ماہر، آنکھوں کے ماہر اور امراض قلب کے ماہر شامل ہوں، جبکہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی طبی عمل میں شامل رہنے کی اجازت دی گئی تھی
حکومت نے عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا، تاہم عدالت کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے عمران خان کو جیل سے طبی معائنے کے لیے باہر منتقل کیا گیا،سرکاری حکام کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پی آئی ایم ایس کے انتخاب کی بنیادی وجہ سکیورٹی تھی،اس دوران عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان بھی طبی عمل میں شریک رہے
پمز ہاسپٹل میں عمران خان کا معائنہ امراض قلب، آنکھوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں نے کیا۔ معائنے کے بعد حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا،تاہم تازہ طبی معائنے کی مکمل تحریری رپورٹ، جس میں بلڈ پریشر، شوگر، نبض، آنکھوں کی بینائی اور دیگر ٹیسٹوں کے حتمی اعداد شامل ہوں، ابھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے تازہ معائنے کی بنیاد پر ان کی شوگر یا بلڈ پریشر کا کوئی مخصوص عدد بیان کرنا ممکن نہیں
البتہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے گئے سابقہ طبی ریکارڈ سے عمران خان کی صحت کے بارے میں کچھ تفصیلات سامنے آ چکی ہیں،اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے عدالت کو دی گئی رپورٹ کے مطابق 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک عمران خان کے 39 طبی معائنے مختلف ماہر ڈاکٹروں نے کیے،ان ریکارڈز میں آنکھوں کے علاج، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور دیگر طبی مسائل کا ذکر موجود تھا،عدالت نے ان رپورٹس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا کیونکہ اسے صرف خلاصہ فراہم کیا گیا تھا
آنکھوں کے مسئلے کے حوالے سے عمران خان کے خاندان اور ان کے وکلا کی جانب سے ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں،دوسری طرف جیل حکام کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مرکزی ریٹینا کی رگ بند ہونے سے متعلق مسئلے کے علاج کے بعد متاثرہ آنکھ کی بینائی تقریباً معمول پر آ گئی تھی،عدالت نے اسی لیے آنکھوں کے ماہر کو طبی بورڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی تھی تاکہ اس معاملے کا آزادانہ اور مکمل جائزہ لیا جا سکے
بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی سابقہ ریکارڈ میں اتار چڑھاؤ سامنے آیا تھا،عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق بعض معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ طبی بورڈ نے ان کے ذہنی دباؤ اور بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے کے لیے زیادہ باقاعدگی سے اہل خانہ سے ملاقات اور روزانہ چہل قدمی کی سفارش کی تھی،عدالت نے اسی طبی پس منظر میں انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا
اس پورے معاملے کا سب سے اہم قانونی سوال اب عمران خان کو پی پمز سے چند گھنٹوں بعد واپس اڈیالہ جیل بھیجے جانے سے پیدا ہوا ہے،سپریم کورٹ کے تحریری حکم میں صرف طبی معائنے کا ذکر نہیں تھا بلکہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، وہاں طبی معائنہ اور علاج کرانے اور 16 ستمبر کو اگلی سماعت تک اسپتال میں رکھنے کی واضح ہدایت موجود تھی
اس لیے قانونی طور پر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حکومت محض اس بنیاد پر کہ ڈاکٹروں نے عمران خان کو ’’طبی طور پر فِٹ‘‘ قرار دیا، انہیں عدالت سے دوبارہ اجازت لیے بغیر جیل واپس بھیج سکتی تھی یا نہیں؟اگر عدالتی حکم میں اسپتال میں قیام کو 16 ستمبر تک واضح اور غیر مشروط قرار دیا گیا تھا تو قبل از وقت واپسی کی وجہ اور قانونی اختیار حکومت کو عدالت کے سامنے واضح کرنا پڑ سکتا ہے،تاہم اگر عدالتی حکم کی تشریح یہ بنتی ہے کہ طبی بورڈ مریض کو علاج کے لیے مزید اسپتال میں رکھنے کی ضرورت محسوس نہ کرے تو طبی طور پر فِٹ قرار دیے جانے کے بعد واپسی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے
اس معاملے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کس قانونی اختیار کے تحت کیا گیا،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں مخصوص طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال کا نام دیا تھا، جبکہ حکومت نے سکیورٹی کو بنیاد بنا کر مقام تبدیل کیا،اگر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ عدالتی حکم کی روح طبی سہولت کی فراہمی تھی اور سکیورٹی کی وجہ سے پی آئی ایم ایس میں وہی طبی سہولت فراہم کی گئی، تو یہ مؤقف عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر عدالت نے مخصوص اسپتال اور وہاں قیام کی مدت دونوں کو لازمی قرار دیا تھا تو مقام اور مدت دونوں میں تبدیلی کی قانونی توجیہہ بھی درکار ہوگی
اس دوران حکومت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ قیدیوں کو عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں علاج فراہم کیا جاتا ہے اور عمران خان کے لیے نجی اسپتال کی سہولت کو ایک غیر معمولی انتظام سمجھا گیا،اسی بنیاد پر حکومت نے سپریم کورٹ سے اپنے حکم میں مناسب ترمیم یا نظرثانی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا تھا،دوسری طرف عمران خان کے خاندان اور تحریک انصاف کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی صحت کے مسائل کو معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا اور انہیں ان کے خاندان کے منتخب کردہ ماہر ڈاکٹروں سے مکمل طبی سہولت ملنی چاہیے
اب تازہ صورتحال میں حکومت کے پاس یہ مؤقف موجود ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا، ماہر ڈاکٹروں نے انہیں فِٹ قرار دیا اور انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا،لیکن اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے تحریری حکم میں 16 ستمبر تک اسپتال میں رکھنے کی ہدایت موجود ہے،یہی دونوں باتیں اس معاملے کو قانونی طور پر اہم بناتی ہیں
حتمی طور پر یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کرنا عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھا یا نہیں،اس کے لیے تین دستاویزات بنیادی اہمیت رکھیں گی،سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اصل حکم کے مکمل الفاظ، پی آئی ایم ایس میں ہونے والے تازہ طبی معائنے کی مکمل رپورٹ، اور وہ طبی سفارش جس کی بنیاد پر انہیں اسپتال سے واپس جیل بھیجا گیا
16 ستمبر کی آئندہ سماعت میں اگر عدالت نے تازہ طبی رپورٹ اور واپسی کی وجوہات طلب کیں تو یہ معاملہ صرف عمران خان کی صحت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی طے ہو سکتا ہے کہ عدالتی حکم میں دی گئی اسپتال میں قیام کی مدت اور مخصوص اسپتال کی ہدایت کو انتظامیہ کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے،یہی پہلو اس وقت عمران خان کے طبی معاملے کا سب سے اہم قانونی سوال بن چکا ہے، ادھر کچھ اہم سرکاری ذرائع اس صورت حال کو آرمی اسٹیبلشمنٹ اور شہباز حکومت کے درمیان عمران خان کو لیکر نئی کشیدگی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں ، انکا کہنا ہے سپریم کورٹ نے عمران خان کو ہاسپٹل لے جانے کا فیصلہ “ انکے” اشارے پر دیا جبکہ حکومت کسی طور عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل منتقل کرنے کے حق میں نہیں تھی مگر عدالتی حکم کی پابندی جب مجبوری بن گئی تو ال شفا کی بجائے سیکورٹی کی آڑ لیکر عمران خان کو پمز لے جایا گیا بعد ازاں انہیں میڈیکل بورڈ کے فیصلے کی روشنی میں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا جس میں انہیں مکمل صحت مند قرار دیا گیا ہے ، تاہم یہ طے ہے عمران خان کی جیل واپسی آئندہ چند دنوں میں نئے سیاسی بحران پیدا کرے گی

قومی خبریں سے مزید