اسرائیل نے عالمی مخالفت کے باوجود مغربی کنارے کے متنازع آبادکاری منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کر دی، آباد کاری فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنادے گی ؟
اسرائیل نے عالمی مخالفت اور اپنے اتحادی مغربی ممالک کی شدید تنقید کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے انتہائی متنازع علاقے ای 1 میں آبادکاری منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے، جس کے تحت 1,200 سے زیادہ نئے رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کے لیے ٹھیکوں کی بولیاں طلب کی گئی ہیں،یہ پیش رفت اس منصوبے کو کئی برس کی تاخیر کے بعد عملی مرحلے میں داخل کرتی ہے اور فلسطینی ریاست کے مستقبل، مشرقی بیت المقدس کی حیثیت اور مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل کے بارے میں ایک نئی اور سنگین بحث پیدا کر رہی ہے
ای 1 کا علاقہ مشرقی بیت المقدس اور اسرائیلی آبادی معالیہ ادومیم کے درمیان تقریباً 12 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے،اسرائیل نے پہلے ہی اس علاقے میں مجموعی طور پر تقریباً 3,400 رہائشی یونٹوں کے منصوبے کی منظوری دے رکھی ہے، جبکہ موجودہ مرحلے میں 7 رہائشی منصوبوں میں 1,234 مکانات کی تعمیر کے لیے باقاعدہ بولیاں طلب کی گئی ہیں،یہی جغرافیائی محل وقوع اس منصوبے کو عام آبادکاری منصوبے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم بناتا ہے
فلسطینیوں اور منصوبے کے مخالف بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ای 1 میں تعمیرات مکمل ہوئیں تو مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے درمیان فلسطینیوں کا زمینی رابطہ مزید محدود ہو جائے گا اور مغربی کنارہ شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے،اس صورت میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک مسلسل اور قابلِ عمل جغرافیہ برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا،یورپی ممالک نے بھی اسی خدشے کی بنیاد پر خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ دو ریاستی حل کو شدید نقصان پہنچائے گا
یہاں اصل تنازع صرف نئے گھروں کی تعداد کا نہیں بلکہ زمین کے نقشے کا ہے،مغربی کنارے میں پہلے ہی اسرائیلی آبادکاریوں، سڑکوں اور مختلف علاقوں کے انتظامی بندوبست نے فلسطینی آبادیوں کے درمیان زمینی رابطے کو پیچیدہ بنا رکھا ہے،ای 1 میں بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات اسرائیلی آبادیوں کے ایک ایسے مسلسل پٹی نما رابطے کو مضبوط کر سکتی ہیں جو مشرقی بیت المقدس سے معالیہ ادومیم تک پھیل جائے گا،ناقدین کے مطابق اس سے فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی تقسیم مستقل نوعیت اختیار کر سکتی ہے
اس منصوبے کے انسانی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،ای 1 کے وسیع علاقے میں فلسطینی اور بدوی برادریاں موجود ہیں، جنہیں آبادکاری، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور نقل مکانی کے دباؤ کا سامنا رہا ہے،انسانی حقوق کے ادارے پہلے ہی مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں کی بے دخلی اور آبادکاروں کے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کر چکے ہیں
اسرائیل کے اندر دائیں بازو کے حلقے اس منصوبے کو ایک مختلف سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں،ان کے نزدیک ای 1 میں آبادکاری اسرائیل کے مشرقی بیت المقدس اور معالیہ ادومیم کے درمیان زمینی رابطے کو مضبوط کرنے اور علاقے پر اسرائیلی کنٹرول مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے،اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر ارکان اس منصوبے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ بھی قرار دیتے رہے ہیں
اسی لیے فلسطینی قیادت اور اسرائیلی حکومت کے مخالف حلقے اسے محض رہائشی منصوبہ نہیں سمجھتے بلکہ مغربی کنارے کے مستقبل کا فیصلہ زمین پر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں،ان کے مطابق مذاکرات کے ذریعے مستقبل کی سرحدیں طے ہونے سے پہلے اگر زمین پر آبادیاں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ اس انداز میں تعمیر کر دیا گیا کہ فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل ختم ہو جائے تو مستقبل میں کسی بھی دو ریاستی معاہدے پر عمل درآمد انتہائی مشکل ہو سکتا ہے
اقوام متحدہ نے بھی ای 1 منصوبے کے حوالے سے انتہائی سخت تشویش ظاہر کی ہے اور اسے ایک متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ’’وجودی خطرہ‘‘ قرار دیا ہے،عالمی ادارے کا بنیادی خدشہ یہی ہے کہ مغربی کنارے کی جغرافیائی تقسیم فلسطینی ریاست کے اس تصور کو عملی طور پر ناممکن بنا سکتی ہے جس کی بنیاد ایک مسلسل اور باہم مربوط علاقے پر ہو
امریکا کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے،واشنگٹن طویل عرصے سے دو ریاستی حل کو مشرق وسطیٰ کے تنازع کے ممکنہ سیاسی حل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، جبکہ ای 1 میں تعمیرات اس حل کے لیے مطلوبہ جغرافیائی تسلسل کو متاثر کر سکتی ہیں،موجودہ صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کے خلاف محض سفارتی تشویش ظاہر کرتی ہے یا اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسے روکنے کے لیے عملی دباؤ بھی ڈالتی ہے
یورپ نے اس مرتبہ نسبتاً واضح اور مشترکہ ردعمل دیا ہے،برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ای 1 منصوبے سے متعلق تعمیراتی بولیاں فوری طور پر واپس لی جائیں،ان ممالک نے کہا ہے کہ منصوبہ مغربی کنارے میں ایک ایسی جغرافیائی تقسیم پیدا کرے گا جو فلسطینی علاقوں کے باہمی ربط کو نقصان پہنچائے گی اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کم کرے گی
اس کے علاوہ کینیڈا، نیدرلینڈز اور ناروے بھی ان ممالک میں شامل ہیں جن کے رہنماؤں نے 20 اگست کو مشترکہ طور پر اسرائیلی اقدام کی مذمت کی،7 ممالک کے مشترکہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفت صرف ایک یا دو یورپی حکومتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مغربی دنیا کے ایک بڑے حصے میں اس منصوبے کے خلاف تشویش بڑھ رہی ہے
یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ ای 1 منصوبے کو آگے بڑھانا دو ریاستی حل کو مزید کمزور کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے،بعض یورپی حلقوں میں اب یہ بحث بھی سامنے آ رہی ہے کہ اگر اسرائیل تعمیرات عملی طور پر شروع کرتا ہے تو صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ تجارت، سفارتی تعلقات یا دیگر شعبوں میں دباؤ کے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے
یہ ردعمل اس لیے بھی اہم ہے کہ اسرائیلی آبادکاری کا مسئلہ اب محض اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نہیں رہا بلکہ اسرائیل کے اپنے اہم مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کا بھی حساس موضوع بنتا جا رہا ہے،برطانیہ نے اسرائیلی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے منصوبے پر شدید اعتراض بھی ریکارڈ کرایا ہے
تجزیہ نگاروں اور سماجی علوم کے ماہرین کے لیے اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ زمین پر ہونے والی تبدیلیاں کسی بھی مستقبل کے سیاسی معاہدے سے پہلے ہی طاقت کا توازن تبدیل کر دیتی ہیں،اگر ایک آبادی کو ایک علاقے میں آباد کیا جائے، نئی سڑکیں بنائی جائیں اور مختلف علاقوں کو مستقل انفراسٹرکچر کے ذریعے جوڑ دیا جائے تو چند برس بعد اسی علاقے کو واپس تقسیم کرنا سیاسی، معاشی اور انسانی اعتبار سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے
اسی تناظر میں ای 1 کو اسرائیل فلسطین تنازع کے مستقبل کے نقشے پر اثر انداز ہونے والے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے،ناقدین کے نزدیک اس کا مقصد صرف رہائش فراہم کرنا نہیں بلکہ زمین پر ایک ایسی حقیقت قائم کرنا ہے جو مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی شرائط کو بنیادی طور پر بدل دے
دوسری طرف اسرائیل کے لیے یہ منصوبہ مشرقی بیت المقدس اور معالیہ ادومیم کے درمیان رابطے اور سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے اہم سمجھا جاتا ہے،یہی بنیادی اختلاف اس معاملے کو اتنا پیچیدہ بناتا ہے کہ ایک فریق اسے اپنی سلامتی اور جغرافیائی ضرورت سمجھتا ہے جبکہ دوسرا اسے اپنی مستقبل کی ریاست کے جغرافیے کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عالمی برادری کی مخالفت اسرائیل کو اس منصوبے سے روکنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے یا نہیں،ماضی میں ای 1 منصوبہ بین الاقوامی دباؤ کے باعث کئی مرتبہ مؤخر ہوا، لیکن اس مرتبہ تعمیراتی بولیوں کا اجرا اسے محض منصوبہ بندی کی سطح سے آگے لے گیا ہے،اگر عملی تعمیر شروع ہو جاتی ہے تو عالمی مخالفت کے باوجود زمین پر ایک نئی حقیقت تشکیل پانا شروع ہو سکتی ہے
اسی لیے ای 1 کا تنازع دراصل 1,200 گھروں کا تنازع نہیں،یہ اس بنیادی سوال پر لڑائی ہے کہ مستقبل کے مغربی کنارے کا نقشہ کون بنائے گا، فلسطینی ریاست کے لیے جغرافیائی تسلسل باقی رہے گا یا نہیں، اور دو ریاستی حل آنے والے برسوں میں ایک حقیقی سیاسی امکان رہے گا یا زمین پر ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کے باعث صرف سفارتی نعرہ بن کر رہ جائے گا





