لاہور کے سب سے بڑے ڈی ایچ اے فیز ٹین کی لانچنگ، عوام اور اوورسیز انویسٹرز کی عدم دلچسپی سے اعلیٰ فوجی حلقے پریشان
لاہور ڈی ایچ اے کے سب سے بڑے اور جدید فیز ٹین کی لانچنگ ہو گئی جسکی کامیابی کیلئے اعلیٰ عسکری حکام نے سر توڑ کوشش کی مگر مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے ۔ ملک کے دگرگوں معاشی حالات اور سیاسی افراتفری کی وجہ سے عوام خصوصاً اوورسیز پاکستانی ریئل اسٹیٹ سمیت کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہونے کے بعد کچھ سرمایہ پاکستان خصوصاً کراچی کی ریئل اسٹیٹ میں آیا مگر لوگوں کا موجودہ سسٹم پر اعتبار ختم ہونے کی وجہ سے نہ صرف اسکی آمد رک گئی بلکہ ملک سے سرمایہ بیرون ملک بھیجنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ پاک بھارت سرحد سے چند میل دور ڈی ایچ اے فیز ٹین کیلئے زرخیر زرعی زمین کی خریداری بااثر لینڈ پروائڈرز کے ذریعے مکمل ہو چکی ہے اور تعمیراتی کام زوروں سے جاری ہے ۔ فوج کی کمان میں ملک بھر میں ڈی ایچ ایز میلوں رقبوں پر پھیلے ہوئے ہیں جہاں کرپشن اور غیر قانونی طریقے سے پیسے والے سیاستدان ، افسران اور کاروباری لوگ پلاٹوں اور فائلوں کا دھندا کرتے ہیں اور بانٹ کر کھاتے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں شدید مندی سے پہلے بیرون ملک رہنے والے بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کر کے پیسے کما رہے تھے مگر اب انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ تمام فوجی افسران کو کوٹے کیمطابق ڈی ایچ ایز میں پلاٹ جبکہ عسکری کالونیوں میں گھر اور فلیٹ الاٹ ہوتے ہیں جو انکا استحقاق ہے مگر حالیہ سالوں میں زیادہ تر اعلیٰ فوجی افسران کی توجّہ ملکی دفاع سے زیادہ کمرشل پلازوں ، پلاٹوں اور دوسرے معاملات پر مذکور ہو گئی ہے۔






