اے آئی سے خوفزدہ امریکا میں صرف جنریشن ایکس نسبتاً پُراعتماد، نوجوانوں میں تشویش سب سے زیادہ

اے آئی سے خوفزدہ امریکا میں صرف جنریشن ایکس نسبتاً پُراعتماد، نوجوانوں میں تشویش سب سے زیادہ

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ایک نسل اس رجحان سے قدرے مختلف نظر آتی ہے،تازہ جائزوں کے مطابق 50 سے 64 سال عمر کے امریکی، جن میں زیادہ تر جنریشن ایکس شامل ہے، واحد عمر کا گروپ ہے جس میں اکثریت مصنوعی ذہانت کے بارے میں خود کو ’’پُرجوش ہونے کے مقابلے میں زیادہ تشویش زدہ‘‘ قرار نہیں دیتی
پیُو ریسرچ سینٹر کے تازہ سروے کے مطابق مجموعی طور پر 52 فیصد امریکی کہتے ہیں کہ روزمرہ زندگی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے بارے میں وہ پُرجوش ہونے کے بجائے زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ 2021 میں یہ شرح صرف 37 فیصد تھی۔ 30 سال سے کم عمر امریکیوں میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں تشویش اس سے بھی زیادہ ہے اور 55 فیصد نوجوان اسے تشویش کا باعث سمجھتے ہیں
نوجوانوں کے رویے میں تبدیلی خاص طور پر نمایاں ہے،پیُو کے مطابق 73 فیصد امریکی نوجوان سمجھتے ہیں کہ اگلی دو دہائیوں میں مصنوعی ذہانت روزگار کے مواقع کم کر دے گی،2024 میں ایسا سمجھنے والوں کی شرح 61 فیصد تھی،اس خدشے کے پس منظر میں ملازمتوں کے خاتمے، انسانی صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ پر ممکنہ اثرات اور معاشرتی تعلقات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش شامل ہے
اس کے برعکس جنریشن ایکس کا رویہ دلچسپ ہے،یہ وہ نسل ہے جس نے انٹرنیٹ، ذاتی کمپیوٹر اور ڈیجیٹل انقلاب کو بتدریج اپنی زندگی میں داخل ہوتے دیکھا،شاید یہی تجربہ اسے مصنوعی ذہانت کو ایک اچانک آنے والے انقلاب کے بجائے ٹیکنالوجی کی ایک اور بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھنے میں مدد دیتا ہے
تاہم مجموعی تصویر مصنوعی ذہانت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ہے،امریکی عوام میں یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی معاشرے کی اسے سمجھنے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیز ہے،یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں وہ نسل جسے کبھی ٹیکنالوجی سے سب سے زیادہ خوفزدہ سمجھا جاتا تھا، اب نوجوان نسل کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ پُراعتماد دکھائی دے رہی ہے

قومی خبریں سے مزید