ذہنی صحت کے مسائل کا علاج صرف ادویات نہیں، معاشرتی حالات بہتر بنانا بھی ضروری ہے

ذہنی صحت کے مسائل کا علاج صرف ادویات نہیں، معاشرتی حالات بہتر بنانا بھی ضروری ہے

کراچی: ذہنی صحت کو اکثر ایک فرد کا ذاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن غربت، بے روزگاری، تشدد، عدم مساوات، موسمی آفات اور سیاسی بے یقینی جیسے حالات بھی لوگوں کی ذہنی کیفیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا جائے تو صرف ادویات اور نفسیاتی علاج کے ذریعے ذہنی صحت کے بحران پر مکمل قابو پانا مشکل ہے
ماہرین نفسیات کے مطابق ڈپریشن، اضطراب اور صدمے کو صرف کسی فرد کے ذہن میں پیدا ہونے والی بیماری کے طور پر دیکھنے کے بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کن حالات سے گزر رہا ہے اور کون سے معاشرتی عوامل اس کی تکلیف کو مسلسل بڑھا رہے ہیں
پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جہاں لاکھوں افراد معاشی مشکلات، بے روزگاری، سیلاب، تشدد، نقل مکانی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ایک کسان کی فصل بار بار سیلاب سے تباہ ہو جائے، تعلیم مکمل کرنے کے باوجود نوجوان کو روزگار نہ ملے یا کوئی خاتون گھریلو تشدد کا شکار ہو تو ان حالات کو صرف ذہنی بیماری کے ذریعے سمجھنا کافی نہیں ہوگا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی صرف نفسیاتی مشاورت کافی نہیں محفوظ اسکول، مضبوط حفاظتی نظام، غربت میں کمی، تشدد سے تحفظ اور خاندانوں کے لیے بہتر معاشرتی سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ بچپن میں تشدد، نظرانداز کیے جانے، غربت اور نقل مکانی جیسے تجربات زندگی بھر ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں
اسی طرح خودکشی کی روک تھام کے لیے بھی صرف ہنگامی طبی امداد یا نفسیاتی علاج پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ سماجی تنہائی، غربت، بے روزگاری اور مدد تک رسائی میں رکاوٹیں بھی خطرات میں اضافہ کرتی ہیں، اس لیے ان بنیادی وجوہات سے نمٹنا بھی اتنا ہی ضروری ہے
ماہرین کے مطابق ذہنی صحت کی سہولتیں بڑے شہروں کے اسپتالوں اور کلینکوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ انہیں اسکولوں، بنیادی مراکز صحت، کام کی جگہوں، مقامی حکومتوں اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کا حصہ بنایا جانا چاہیے اس عمل میں ان لوگوں کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے جو خود ان مشکلات سے گزر چکے ہیں
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس سوچ کا مطلب نفسیاتی علاج یا ماہرین کی ضرورت کو ختم کرنا نہیں۔ پاکستان کو مزید ماہرین نفسیات، نفسیاتی معالجین اور بہتر طبی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے معاشرتی حالات کو تبدیل نہ کیا جائے تو علاج صرف علامات تک محدود رہ سکتا ہے
ماہرین کے مطابق حقیقی ذہنی سکون صرف علاج حاصل کرنے سے نہیں بلکہ محفوظ، باعزت، مربوط اور پُرامید زندگی گزارنے کے مواقع سے بھی حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ذہنی صحت کے بحران کا دیرپا حل فرد کے علاج کے ساتھ ساتھ ان حالات کو بہتر بنانا بھی ہے جن میں لوگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید