کراچی میں مقتول نوجوان کی تدفین سے انکار، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

کراچی میں مقتول نوجوان کی تدفین سے انکار، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے 17 سالہ نوجوان روشن حسین کے اہل خانہ نے اس وقت تک تدفین سے انکار کردیا ہے جب تک اس کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ مقتول کے اہل خانہ اور رشتہ دار کئی روز سے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ہفتے کے روز بھی ان کا احتجاج جاری رہا
روشن حسین کو 8 ستمبر کو اس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب 6 ڈاکو، جن میں 2 پولیس کی وردی پہنے ہوئے تھے، منگھوپیر میں اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے مطابق روشن اپنے کمرے سے باہر آیا تو ملزمان نے اسے گولی مار دی واقعے کے بعد خاندان نے لاش کی تدفین روک کر قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ شروع کردیا
مغربی زون کے ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کے مطابق مقتول نوجوان کا تابوت ایدھی مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ اس کے والد نے واضح کیا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری تک وہ بیٹے کو دفن نہیں کریں گے
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ڈی آئی جی کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان کی شناخت کے حوالے سے اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتبہ ملزمان پنجاب کے شہر لودھراں فرار ہوگئے ہیں اور کراچی پولیس انہیں گرفتار کرنے کے لیے پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کررہی ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل وجہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکی۔ تحقیقات کو اس وقت مشکلات کا بھی سامنا ہے کیونکہ مقتول کے والد پولیس کو جائے وقوعہ تک رسائی دینے اور خاندان کے افراد کے بیانات ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دے رہے
اہل خانہ کا احتجاج اور تدفین سے انکار کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پولیس پر اب دباؤ ہے کہ وہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائے

قومی خبریں سے مزید