برطانیہ میں امیگرنٹس مخالف احتجاج نے خطرناک رخ اختیار کرلیا، پولیس سے جھڑپیں
برطانیہ کے ساحلی شہر پورٹس ماؤتھ میں امیگرنٹس مخالف مظاہرین اور ان کے خلاف احتجاج کرنے والے گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے دونوں جانب سے سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ پولیس نے دونوں گروہوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کردی
کشیدگی کی بنیادی وجہ برطانیہ میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کا معاملہ ہے امیگرنٹس مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کی سرحدوں کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں ناکام ہے اور نئے آنے والوں کو ہوٹلوں میں رکھنے سے مقامی آبادی پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے
دوسری جانب نسل پرستی اور امیگرنٹس مخالف سیاست کے خلاف مظاہرین کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کو نشانہ بنانا اور ان کے خلاف نفرت پھیلانا قابل قبول نہیں ان کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے گروہ امیگریشن کے مسئلے کو سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں
حالیہ احتجاج سے پہلے بھی پورٹس ماؤتھ میں پولیس اور امیگرنٹس مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوچکی ہیں بعض سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس نے مظاہرین کو الگ رکھنے کے لیے سخت انتظامات کیے اور چہرے ڈھانپ کر احتجاج کرنے پر بھی پابندی عائد کی
برطانیہ میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کا مسئلہ کئی برس سے سیاسی تنازع بنا ہوا ہے حکومت پر ایک طرف سرحدوں پر سختی کرنے کا دباؤ ہے تو دوسری جانب انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے پناہ کے حق اور امیگرنٹس کے ساتھ انسانی سلوک کا مطالبہ کیا جارہا ہے
موجودہ صورتحال میں مسئلہ صرف امیگریشن تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے برطانوی معاشرے میں سیاسی تقسیم، نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کی سرگرمیوں کو بھی نمایاں کردیا ہے پولیس کو خدشہ ہے کہ اگر دونوں گروہوں کے مظاہرے اسی طرح جاری رہے تو مزید تصادم اور بدامنی پیدا ہوسکتی ہے






