بالآخر عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا، 6 رکنی میڈیکل بورڈ طبی معائنہ کرے گا

بالآخر عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا، 6 رکنی میڈیکل بورڈ طبی معائنہ کرے گا

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو پمز اسپتال اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں 6 رکنی میڈیکل بورڈ ان کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا
ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ عمران خان کی موجودہ طبی حالت، بلڈ پریشر اور دیگر طبی اشاریوں کا جائزہ لے گا اور مکمل طبی معائنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ انہیں مزید علاج اور نگرانی کے لیے اسپتال میں رکھا جائے یا طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے
عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں خاص طور پر ان کے بلڈ پریشر کے مسئلے کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور طبی معائنے کے نتائج کی بنیاد پر ہی ہوگا
اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ میڈیکل بورڈ عمران خان کی طبی حالت کو کس حد تک تشویش ناک قرار دیتا ہے اور آیا انہیں اسپتال میں داخل رکھنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے یا ادویات اور طبی نگرانی کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جیل میں موجود سیاسی رہنماؤں کو طبی بنیادوں پر اسپتال منتقل کیے جانے کے واقعات نئے نہیں ہیں،اسی وجہ سے عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ان کی صحت سے متعلق کسی بھی فیصلے کو سیاسی طور پر بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے
تاہم عمران خان کی موجودہ طبی حالت، اسپتال میں قیام کی مدت اور دوبارہ جیل منتقلی کے بارے میں حتمی صورتحال میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی،جیسا کے ملکی و غیرملکی سیاسی تجزیہ نگار عمران خان کی ہاسپٹل منتقلی کو فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کا نتیجہ قرار دے رہے ، ایسی صورت میں عمران خان مکمل صحت ہی کیوں نہ ہوں مگر انہیں رکھا ہاسپٹل ہی جائے گا جہاں سے انہیں بنی گالا انکے گھر منتقل کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں جبکہ اسکے برعکس صورت حال میں اگر خان کا بلڈ پریشر ہائ ہے اور آنکھ میں کوئ تکلیف ہے تو میڈیکل بورڈ عمران خان کو ادویات دیکر ہاسپٹل بھیج سکتا ، جبکہ آنکھ میں کسی بڑی مشکل کے نتیجے میں آنکھ کے آپریشن کے چند دن بعد پھر ہاسپٹل روانہ کیا جائے

قومی خبریں سے مزید