وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر افسران کی بگھی پر سواری کا نوٹس لے لیا،سرکاری دستاویز کے مطابق وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کی بگھی میں سواری پر برہمی کا اظہار کیا
سرکاری دستاویز کے مطابق 17 اگست کو آئی جی اور چیف کمشنر کو وزیراعظم کی ناراضی سے آگاہ کر دیا گیا تھا
سرکاری دستاویز کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے 17 اگست کو آگاہ کیا گیا تھا، دونوں افسران کو جوائنٹ سیکریٹری ڈسپلن کی طرف سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا
آئی جی اسلام آباد کی بگی میں بیٹھ کر تقریب کا معائنہ کرنے کی وائرل ویڈیو پر محسن نقوی کا ردِعمل
سرکاری ذرائع کے مطابق چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد 14 اگست کو تقریب میں بگھی پرسوار ہو کر پہنچے تھے
جوائنٹ سیکریٹری کے خط میں وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسی ذاتی نمود ونمائش عوامی خدمت کےاصولوں کےمنافی ہے
ذرائع کے مطابق خط میں وزیر اعظم کی طرف سے سول سرونٹس کو ایسے طرز عمل سے گریز اور سادگی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے, ادھر اسلام آباد میں سول بیوروکریسی کے اہم ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے چیف کمشنر اسلام آباد اورآئ جی پولیس اسلام آباد کو ملک کے ہائبرڈ وزیرداخلہ محسن نقوی کے فرنٹ مین ہیں انہیں بگھی پر بیٹھ کر پریڈ میں شرکت کی دعوت جی ایچ کیو نے محسن نقوی کے ذریعے پہنچائ تھی ، اسلام آباد کے ذرائع کا کہنا ہے گزشتہ چند ماہ سے طاقت کی راہداریوں میں جہاں جمہوری نظام شہباز شریف حکومت کو لپٹینے کی افواہیں پھیلی ہوئ ہیں وہیں ایک تاثر یہ بھی ہے شہباز شریف آئین میں درج اپنے اختیارات استعمال کرنے کے تجربے اکثر کرتے رہتے ہیں اور جب پکڑے جاتے ہیں تو ترلے ڈال کر معاملات درست کرلیتے ہیں





