نئے صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی تجویز

نئے صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی تجویز

اسلام آباد: پاکستان میں 12 یا 32 نئے صوبے اور انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز پر بحث کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی بڑی انتظامی تبدیلی ملک کے معاشی استحکام اور اصلاحات کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انتظامی تقسیم سے حکومتی ادارے عوام کے قریب آسکتے ہیں، تاہم ایک سابق اعلیٰ سرکاری افسر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہی مقصد مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں کے ذریعے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے
رپورٹ کے مطابق نئی انتظامی تقسیم کا سب سے بڑا خطرہ اضافی مالی اخراجات ہیں نئے صوبوں کے قیام کے بعد ہر صوبے کے لیے الگ صدر مقام، اسمبلی، انتظامی محکمے، سرکاری عمارتیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ درکار ہوگا۔ اس کے نتیجے میں پہلے سے محدود سرکاری وسائل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور معاشی اصلاحات کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے
نئے صوبوں کی تشکیل سے قومی مالیاتی کمیشن کے وسائل کی تقسیم کا معاملہ بھی مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے پہلے ہی مالی وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل رہا ہے، جبکہ صوبوں کی تعداد بڑھنے سے مختلف علاقوں کے درمیان وسائل کے حصے پر اختلافات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور نئے مالیاتی معاہدے میں مزید تاخیر کا امکان ہے
انتظامی تبدیلی کے دوران حکومت کو اثاثوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم، نئے دفاتر کے قیام، سرکاری محکموں کی تشکیل اور نئی انتظامیہ کو فعال بنانے جیسے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس دوران ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمات اور معاشی اصلاحات پر حکومتی توجہ کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
اس کے علاوہ زیادہ صوبوں کی صورت میں تعلیم، صحت، زراعت، خوراک، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں باہمی رابطہ مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی مختلف انتظامی سطحوں کے درمیان پالیسیوں پر مکمل ہم آہنگی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، جبکہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ اس پیچیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے
نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی اور سیاسی مراحل بھی آسان نہیں ہوں گے اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتوں اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے درکار ہوگا۔ بعض صوبائی اسمبلیاں پہلے ہی ایسی تجاویز کی مخالفت کرچکی ہیں، اس لیے اس عمل میں سیاسی وقت اور وسائل کی بڑی مقدار صرف ہوسکتی ہے
اس کے مقابلے میں بااختیار، مناسب مالی وسائل رکھنے والی اور براہ راست منتخب مقامی حکومتوں کو ایک متبادل راستے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس نظام کے ذریعے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جاسکتے ہیں، جس سے شہریوں کو اپنے منتخب نمائندوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی اور حکومت عوام کے قریب آسکے گی
مضبوط مقامی حکومتیں کاروباری سرگرمیوں کے لیے زمین، بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتی ہیں اس سے کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے
اس تجویز کے مطابق صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ انتظامی ڈھانچے کے اندر مقامی حکومتوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل دینا معاشی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے، غیر ضروری انتظامی اخراجات کم کرنے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور نجی شعبے کو فروغ دینے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے
رائے میں زور دیا گیا ہے کہ اس وقت ملک کو سیاسی اور معاشی انتشار کے بجائے جاری معاشی اصلاحات کو مکمل کرنے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور انہیں عوام کے سامنے جواب دہ بنانے پر توجہ دینی چاہیے

قومی خبریں سے مزید