بلوچستان میں گیس کی بندش تین روز بعد بھی برقرار، تباہ شدہ پائپ لائن کی مرمت سکیورٹی اجازت کی منتظر
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی تین روز گزرنے کے باوجود بحال نہ ہو سکی، جبکہ تباہ شدہ مرکزی گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث شروع نہیں کیا جا سکا
بدھ کی رات کچھی ضلع کے بولان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکا خیز مواد کے ذریعے 18 انچ قطر کی مرکزی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں بلوچستان کے کئی علاقوں میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی
حکام کے مطابق دھماکا بولان کے دریائی علاقے میں گورکٹ کے قریب واقع والو اسمبلی پر ہوا، جو کوئٹہ سبی شاہراہ سے تقریباً 700 سے 800 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ پائپ لائن کے نیچے دھماکا خیز مواد نصب کرکے اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا
دھماکے کے بعد کوئٹہ کے کئی علاقوں کے علاوہ کولپور، مچھ، مستونگ، قلات، پشین اور زیارت میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔ بعض علاقوں میں گیس کا دباؤ کم ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں
سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ مرمت کرنے والی ٹیمیں تیار ہیں، تاہم متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کے لیے سکیورٹی اداروں کی اجازت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اجازت ملتے ہی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر مرمت کا کام شروع کر دیں گی
گیس کی مسلسل بندش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں گیس کی فراہمی معمول پر آنے میں مزید وقت لگنے کا خدشہ ہے۔





