Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ میں ایئرپورٹس پر امیگریشن گرفتاریوں میں اضافہ، جانز ہاپکنز کی محققہ بھی آئی سی ای کی حراست میں

امریکہ میں ایئرپورٹس پر امیگریشن گرفتاریوں میں اضافہ، جانز ہاپکنز کی محققہ بھی آئی سی ای کی حراست میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امیگریشن کارروائیوں میں تیزی کے دوران ایک معروف تحقیقی ادارے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی محققہ کو ایئرپورٹ سے گرفتار کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے تارکینِ وطن کے خلاف جاری کارروائیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق فاطمہ امیکا، جو کیمرون سے تعلق رکھتی ہیں اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں ملازم محققہ ہیں، کو بالٹی مور/واشنگٹن انٹرنیشنل تھرگڈ مارشل ایئرپورٹ سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے حراست میں لیا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق گرفتاری اس وقت ہوئی جب وہ ایک اندرونِ ملک پرواز پر سوار ہونے والی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کارروائیاں جاری ہیں۔

جانز ہاپکنز کی اہمیت

جانز ہاپکنز یونیورسٹی دنیا کے سب سے معتبر تحقیقی اداروں میں شمار ہوتی ہے، خصوصاً صحت عامہ، طب، پبلک پالیسی اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں اس کا عالمی مقام ہے۔ یہاں ریسرچر کا عہدہ ایک اعلیٰ علمی اور تحقیقی حیثیت سمجھا جاتا ہے، اور اس ادارے سے وابستہ محققین کی تحقیقات کو دنیا بھر میں پالیسی سازی اور علمی حلقوں میں اہمیت دی جاتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتوں میں امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن گرفتاریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے، چاہے انہوں نے پناہ گزینی یا شادی کی بنیاد پر قانونی درخواستیں جمع کرا رکھی ہوں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہر سال امریکہ میں عارضی ویزوں پر آنے والے لاکھوں افراد میں سے ایک بڑی تعداد مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرتی ہے، جسے امیگریشن حکام ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

امیگریشن پالیسی پر بحث کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کا نفاذ ضروری ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا زیرِ التوا قانونی درخواستوں رکھنے والے افراد کو بھی اسی انداز میں گرفتار کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

فاطمہ امیکا کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کو اپنی اہم پالیسیوں میں شامل کر رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے گروپ اور امیگریشن وکلا ان کارروائیوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید