ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی پر کارنی اور صوبائی وزرائے اعلیٰ متحد ، کینیڈا نے مذاکرات اور جوابی اقدامات دونوں کے لیے تیاری کر لی

اوٹاوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر نئے بھاری محصولات (ٹیرف) کی دھمکی کے بعد وزیرِاعظم مارک کارنی اور کینیڈا کے صوبائی وزرائے اعلیٰ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہم مشاورت کی۔ اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے تجارتی دباؤ کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا سے آنے والی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں لکڑی، سیمنٹ، ڈیری مصنوعات، شراب اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر امریکا نے یہ اقدامات نافذ کیے تو کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز پر غور کرے گا۔ انہوں نے فوری جوابی ٹیرف لگانے کے بجائے مذاکرات جاری رکھنے کو ترجیح دی۔
اجلاس میں صوبائی رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ سمیت کئی رہنماؤں نے کہا کہ کینیڈا کو مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ ملکی صنعت اور روزگار کا تحفظ کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی دونوں ممالک کی معیشتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔

قومی خبریں سے مزید