آزاد کشمیر انتخابات: مقابلہ ’نواز بمقابلہ بلاول‘ کی شکل اختیار کرنے لگا
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے، جبکہ دونوں جماعتوں کی قیادت براہِ راست میدان میں اتر آئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب اب بڑی حد تک نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان سیاسی مقابلے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی آزاد کشمیر پہنچ کر انتخابی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے بھی پارٹی مہم کی قیادت سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس بار آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے تاکہ اسے گلگت بلتستان کے انتخابات جیسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے، جہاں پیپلز پارٹی نے فعال مہم کے ذریعے سیاسی کامیابی حاصل کی تھی۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال اس کے حق میں جا سکتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے بعض بیانات نے کشمیر میں منفی ماحول پیدا کیا۔ پیپلز پارٹی ان معاملات کو انتخابی مہم میں بھی اجاگر کر رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور اس بار مکمل تیاری کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق نواز شریف کی انتخابی مہم میں شرکت کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے اہم ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں کامیابی حاصل نہ کر سکی تو اس کا اثر ان کی سیاسی مقبولیت پر پڑ سکتا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت میں ہونے کی وجہ سے ایک سیاسی برتری حاصل ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوگا۔





