معاشی استحکام کا تاثر حقیقت سے مختلف، پاکستان کا بیرونی شعبہ اب بھی نازک
اسلام آباد: پاکستان کی معیشت میں حالیہ عرصے کے دوران استحکام کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، لیکن بیرونی شعبہ اب بھی انتہائی کمزور اور بیرونی جھٹکوں کے لیے حساس ہے۔ خوراک کی تجارت میں بڑھتے خسارے، جاری کھاتے کے دوبارہ خسارے میں جانے اور خلیجی کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی جیسے عوامل اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں جاری کھاتے کا خسارہ محض 139 ملین ڈالر رہا، تاہم اس کی بڑی وجہ برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر ہیں۔ دوسری جانب برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں جبکہ درآمدات بلند سطح پر برقرار رہیں، جس سے تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
زرعی شعبے کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خوراک کی درآمدات تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 9 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئیں، جبکہ خام غذائی اشیا کی برآمدات میں تقریباً 30 فیصد کمی آئی۔ چاول اور سبزیوں کی برآمدات میں نمایاں کمی کی ایک وجہ افغانستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی قرار دی گئی۔
پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ درآمدی ایندھن پر مشتمل ہے، اس لیے خلیجی خطے میں کشیدگی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ملکی درآمدی بل، مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے یومیہ بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کی کامیابی مؤثر نگرانی اور پالیسی کے تسلسل پر منحصر ہوگی۔
پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، زرعی پیداوار میں بہتری، مقامی توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقل اقتصادی پالیسیوں پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ صرف ترسیلاتِ زر یا وقتی انتظامی اقدامات طویل المدت معاشی استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتے۔





