مولانا فضل الرحمان نے متنازع بیان پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیکیورٹی اہلکاروں سے متعلق اپنے حالیہ متنازع بیان پر معذرت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنقید کسی ادارے پر نہیں بلکہ فیصلہ سازی کرنے والوں پر تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ افواج اور شہدا کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے بیان کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کر کے ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف متعلقہ اداروں کو ان کی آئینی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی تھی اور پالیسیوں پر تنقید کو ریاست یا اداروں سے دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے، جبکہ شہدا اور ان کے اہل خانہ کے احترام کو ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ دہشت گردی میں ان کی جماعت کے کئی کارکن بھی جانیں گنوا چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مدارس کی رجسٹریشن میں تاخیر پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت انتخابی دھاندلی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو بلوچستان میں حکومت کا حصہ بننے اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی جگہ لینے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر انہوں نے دونوں پیشکشیں مسترد کر دیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔





