ٹرمپ کی خواہش، امریکہ میں دوبارہ عالمی کپ کی میزبانی فوری طور پر کی جائے

ٹرمپ کی خواہش، امریکہ میں دوبارہ عالمی کپ کی میزبانی فوری طور پر کی جائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں دوبارہ عالمی کپ کی میزبانی چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے فیفا سے فوری درخواست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2026 کا عالمی کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جس کامیابی سے منعقد ہوا، اس نے انہیں دوبارہ اس بڑے کھیلوں کے مقابلے کی میزبانی کے لیے پرجوش کردیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ گفتگو عالمی کپ کے فائنل سے قبل امریکی کھیلوں کے ادارے کے ایک انٹرویو میں کی، جہاں انہوں نے ٹورنامنٹ میں آنے والے شائقین، عوامی ردعمل اور مجموعی کامیابی کو سراہا۔

امریکہ نے 2026 میں 30 سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی مرتبہ عالمی کپ کی میزبانی کی۔ اس سے پہلے امریکہ نے 1994 میں عالمی کپ کی میزبانی کی تھی۔ اس بار امریکہ کے ساتھ کینیڈا اور میکسیکو بھی شریک میزبان تھے، جس سے یہ عالمی کپ تاریخ کے سب سے بڑے مقابلوں میں شامل ہوگیا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ابتدا میں وہ فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کے سامنے اس بات کے بارے میں مکمل یقین نہیں رکھتے تھے کہ امریکہ میں عالمی کپ کو عوام کی جانب سے کس قدر پذیرائی ملے گی، لیکن شائقین کی بڑی تعداد اور عوامی جوش و خروش نے ان کی رائے بدل دی۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی کپ دوبارہ امریکہ واپس آئے۔ ٹرمپ نے مذاقاً یہ تجویز بھی دی کہ مستقبل میں عالمی کپ کی میزبانی ایک سے زیادہ ممالک کو دی جائے تاکہ مختلف ملکوں کو موقع مل سکے اور کسی ایک ملک پر دباؤ کم ہو۔

2026 کا عالمی کپ اپنی وسعت، بڑی تعداد میں میچوں، مختلف شہروں میں مقابلوں اور عالمی ناظرین کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث ایک تاریخی ایونٹ بن گیا۔ امریکہ میں فٹبال کی مقبولیت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے یہ کھیل روایتی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تھا۔

تاہم عالمی کپ کی دوبارہ میزبانی کا فیصلہ صرف خواہش سے نہیں بلکہ فیفا کے طویل مدتی شیڈول، ممالک کی درخواستوں، بنیادی ڈھانچے اور سیاسی و مالی معاملات پر منحصر ہوگا۔

ٹرمپ کا بیان اس بات کی علامت ہے کہ 2026 کا عالمی کپ صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں رہا بلکہ امریکہ کے لیے ایک عالمی تشہیری موقع بھی ثابت ہوا، جسے امریکی قیادت اب مستقبل میں دوبارہ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہ

قومی خبریں سے مزید