ٹرمپ کی مداخلت نے شاندار عالمی کپ فائنل کی روشنی کو دھندلا دیا، ناقدین کی رائے
نیو جرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں ہونے والے عالمی کپ کے شاندار فائنل کے بعد جہاں دنیا بھر کے شائقین اسپین کی فتح، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور پورے ٹورنامنٹ کی یادگار کہانیوں پر بات کر رہے تھے، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی بھی بحث کا ایک بڑا موضوع بن گئی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی کپ کے آخری لمحوں میں ٹرمپ ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گئے اور کھیل کے جشن پر سیاست کا سایہ پڑ گیا۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسے ٹورنامنٹ کا اختتام تھا جس میں اصل توجہ کھلاڑیوں، شائقین اور فٹبال کی خوبصورتی پر ہونی چاہیے تھی۔
یہ عالمی کپ کئی یادگار لمحوں سے بھرپور رہا۔ لیونل میسی کی غیر معمولی جدوجہد، چھوٹی ٹیموں کی حیران کن کامیابیاں، مختلف ممالک کے شائقین کا ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام، اور پہلی بار فٹبال سے جڑنے والے لاکھوں امریکی شائقین اس ٹورنامنٹ کی نمایاں کہانیاں رہیں۔
کیپ وردے کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی، بوسٹن میں اسکاٹ لینڈ کے شائقین کے لیے گرمجوشی، امریکہ کی قومی ٹیم کے لیے عوامی حمایت اور دنیا کے مختلف ممالک کے ثقافتی رنگوں نے اس عالمی کپ کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک عالمی جشن بنا دیا۔
لیکن ناقدین کے مطابق فائنل کے آخری لمحات میں توجہ ایک بار پھر کھیل سے ہٹ کر سیاسی شخصیت پر مرکوز ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنی موجودگی سے تقریب کے مرکز میں آنے کی کوشش کی، جیسا کہ وہ اکثر بڑے عوامی مواقع پر کرتے ہیں۔
فائنل کی ٹرافی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت پہلے ہی زیر بحث تھی۔ جب وہ فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کے ساتھ اسٹیج پر آئے تو دنیا بھر کے ناظرین کی توجہ صرف فاتح ٹیم کی خوشی تک محدود نہ رہی بلکہ سیاسی منظرنامہ بھی گفتگو کا حصہ بن گیا۔
ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی موجودگی امریکہ کی میزبانی اور عالمی سطح پر فٹبال کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی علامت تھی، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے بڑے مواقع کو سیاسی تشہیر سے دور رہنا چاہیے۔
یہ بحث دراصل اس بڑے سوال کو ظاہر کرتی ہے کہ آج کے دور میں عالمی کھیلوں کے مقابلے صرف میدان تک محدود نہیں رہے۔ عالمی کپ اب کھیل، تجارت، سیاست اور ثقافت کا ایسا امتزاج بن چکا ہے جہاں ہر بڑا نام اور ہر بڑا لمحہ عالمی توجہ حاصل کرتا ہے۔
اس عالمی کپ کی اصل یادیں یقیناً کھلاڑیوں، شائقین اور میدان میں ہونے والے تاریخی مقابلوں سے جڑی رہیں گی، لیکن فائنل کے بعد کی بحث نے یہ بھی دکھایا کہ بڑے عالمی ایونٹس میں سیاست اور کھیل کو الگ رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے





