عالمی کپ کے فائنل میں ٹرمپ کی آمد پر شائقین کی جانب سے نعرے، پھر ٹرافی کی تقریب میں شرکت

عالمی کپ کے فائنل میں ٹرمپ کی آمد پر شائقین کی جانب سے نعرے، پھر ٹرافی کی تقریب میں شرکت

عالمی کپ کے فائنل کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی نے کھیل کے ماحول میں ایک سیاسی رنگ بھی شامل کردیا، جب اسٹیڈیم میں موجود کچھ شائقین نے ان کی آمد پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے آوازیں بلند کیں۔

ٹرمپ فائنل دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچے، جہاں ہزاروں شائقین کی موجودگی میں میچ جاری تھا۔ ان کی موجودگی پر ردعمل ملا جلا رہا؛ کچھ شائقین نے تالیاں بجائیں جبکہ کچھ نے نعرے لگا کر اپنی ناراضی ظاہر کی۔

میچ کے اختتام کے بعد ٹرمپ نے عالمی کپ کی ٹرافی پیش کرنے کی تقریب میں بھی حصہ لیا۔ وہ فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کے ساتھ اسٹیج پر آئے اور اسپین کے کپتان روڈری کو ٹرافی پیش کی۔

ٹرافی کی تقریب کے دوران ایک لمحہ اس وقت نمایاں ہوا جب ٹرمپ اسپین کی ٹیم کی یادگاری تصویر کے وقت کچھ دیر تک کھڑے رہے، جس سے تقریب کے انداز میں معمولی غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی۔ تاہم بعد میں تقریب مکمل ہوئی اور فاتح ٹیم نے عالمی اعزاز کا جشن جاری رکھا۔

ٹرمپ کی فائنل میں موجودگی نے کھیل اور سیاست کے تعلق پر ایک بار پھر بحث کو جنم دیا۔ عالمی کپ جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلے اکثر عالمی رہنماؤں، اہم شخصیات اور کاروباری اداروں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر کھیل کی اصل روح پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے ان کی موجودگی کو امریکہ کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار اور فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت قرار دیا۔

عالمی کپ کا یہ فائنل صرف اسپین کی فتح اور ارجنٹینا کی شکست تک محدود نہیں رہا، بلکہ میدان کے باہر بھی سیاسی، سماجی اور ثقافتی بحثوں کا مرکز بن گیا

قومی خبریں سے مزید