ٹرمپ کا شو، دولت کی نمائش اور تنازعات سے بھرے عالمی کپ کا آخری منظر

ٹرمپ کا شو، دولت کی نمائش اور تنازعات سے بھرے عالمی کپ کا آخری منظر

فٹبال کے ایک ایسے عالمی کپ کا اختتام ہوا جس میں کھیل کے ساتھ ساتھ سیاست، طاقت، شخصیات کی تشہیر اور غیر معمولی اخراجات بھی نمایاں رہے۔ فائنل کی آخری تقریب میں ایسا محسوس ہوا جیسے میدان میں موجود کھیل سے زیادہ توجہ ان شخصیات پر مرکوز ہوگئی تھی جو اس عالمی ایونٹ کے اسٹیج پر موجود تھیں۔

عالمی کپ کے آخری دن کا منظر بھی اسی انداز کا تھا جس انداز میں پورا ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے زیر بحث رہا۔ ٹرافی کو ایک شاندار تقریب کے انداز میں ایک مشہور فرانسیسی فیشن برانڈ کے خصوصی صندوق سے نکالا گیا، پھر فیفا کے صدر جانی انفینٹینو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ساتھ اسٹیج پر آئے اور اسپین کے کپتان روڈری کو عالمی کپ کی ٹرافی پیش کی۔

تقریب کا ایک لمحہ اس وقت غیر معمولی بن گیا جب ٹرمپ اسپین کی ٹیم کی یادگاری تصویر کے دوران کچھ دیر تک وہیں موجود رہے، جس سے تقریب کے انداز میں معمولی بے ترتیبی محسوس ہوئی۔ تاہم دونوں شخصیات نے صورتحال کو سنبھالا اور تقریب مکمل ہونے کے بعد وہاں سے روانہ ہوگئے۔

یہ اختتام ایک ایسے عالمی کپ کی تصویر پیش کررہا تھا جسے ابتدا ہی سے غیر معمولی وسعت، اخراجات اور نمائش کے لیے یاد کیا جائے گا۔ نیو جرسی کے میدان میں ہونے والی تقریب کے دوران سنہری رنگ کے ذرات، روشنیاں اور جشن کا ماحول موجود تھا، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود رہا کہ کیا جدید فٹبال میں اصل توجہ اب کھیل پر ہے یا اس کے گرد بننے والی طاقت اور دولت کی دنیا پر؟

اس عالمی کپ نے اپنی وسعت، عالمی ناظرین اور مالی حجم کے اعتبار سے نئے ریکارڈ قائم کیے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ اس رجحان کی بھی علامت بن گیا جس میں فٹبال کے بنیادی جذبے کے ساتھ سیاست، کاروباری مفادات اور شخصیات کی تشہیر زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔

فٹبال ہمیشہ سے عوامی جذبات کا کھیل رہا ہے، جہاں کروڑوں لوگ اپنی ٹیموں کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن جدید دور میں عالمی کپ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں سربراہان مملکت، کاروباری ادارے، میڈیا کمپنیاں اور عالمی تنظیمیں بھی اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا اظہار کرتی ہیں۔

اسپین کی فتح میدان کے اندر ایک شاندار کامیابی تھی، لیکن فائنل کی تقریب نے ایک مختلف کہانی بھی بیان کی: ایک ایسی کہانی جس میں فٹبال اب صرف 90 منٹ کا کھیل نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست، تجارت اور ثقافت کا سب سے بڑا اسٹیج بھی بن چکا ہے

قومی خبریں سے مزید