آئس کے سب سے بڑے حراستی مرکز کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ ٹیکساس کا کیمپ ایسٹ مونٹانا امریکی امیگریشن پالیسی پر بڑے سوالات اٹھا رہا ہے
امریکہ کے سب سے بڑے امیگریشن حراستی مرکز کیمپ ایسٹ مونٹانا کے اندر کے حالات نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں واقع یہ مرکز، جو امریکی فوجی اڈے فورٹ بلس کے اندر قائم کیا گیا، اب امریکی امیگریشن نظام، انسانی حقوق اور حکومتی نگرانی کے حوالے سے شدید تنقید کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ مرکز 2025 میں تیزی سے قائم کیا گیا تھا تاکہ امیگریشن حکام کے پاس زیر حراست افراد رکھنے کی گنجائش بڑھائی جاسکے۔ حکومت نے اسے بڑے پیمانے پر امیگریشن نفاذ کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا، لیکن بعد میں سامنے آنے والی تحقیقات نے اس کے انتظام، اخراجات اور حالات پر سوالات اٹھا دیے۔
رپورٹس کے مطابق سرکاری نگران ادارے گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس نے نشاندہی کی کہ مرکز کو انتہائی تیزی سے قائم کیا گیا، جس کے باعث منصوبہ بندی اور نگرانی میں مسائل پیدا ہوئے۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً $1.3 Billion کا معاہدہ کیا گیا، لیکن رپورٹ میں اخراجات، انتظامی کمزوریوں اور حفاظتی معیار پر سوالات اٹھائے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ وہاں موجود قیدیوں کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہیومن رائٹس واچ اور امریکن سول لبرٹیز یونین کی ایک رپورٹ میں سابق زیر حراست افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر مارپیٹ، طبی سہولتوں کی کمی، ناقص خوراک، صفائی کے مسائل اور وکلا و خاندانوں سے رابطے میں مشکلات کے الزامات شامل ہیں۔
کچھ سابق قیدیوں نے الزام لگایا کہ شکایات کرنے یا احتجاج کرنے پر انہیں سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دعوؤں میں خاص طور پر تنہائی میں رکھنے، طبی مسائل نظر انداز کرنے اور حراستی ماحول کو ذہنی دباؤ کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
تاہم امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیر حراست افراد کو مناسب طبی سہولتیں، قانونی مدد اور بنیادی ضروریات فراہم کی جاتی ہیں، اور حکومت نے انسانی سلوک کے اپنے معیار کا دفاع کیا ہے۔
اس مرکز سے متعلق ایک اور بڑا سوال اموات کا ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کیمپ ایسٹ مونٹانا میں اموات کے واقعات نے مزید تحقیقات کا مطالبہ پیدا کیا۔ ایک واقعے میں ایک زیر حراست شخص کی موت کے حالات پر تنازع پیدا ہوا، جہاں ساتھی قیدیوں اور حکام کے بیانات میں فرق سامنے آیا۔
اس معاملے نے امریکہ میں ایک پرانا سوال دوبارہ زندہ کردیا ہے: کیا امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے بڑے پیمانے پر حراستی مراکز ضروری ہیں، یا یہ نظام انسانی اور قانونی نگرانی کے بغیر خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے؟
حامیوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن روکنے اور سرحدی تحفظ کے لیے مضبوط حراستی نظام ضروری ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ امیگریشن خلاف ورزی ایک سول معاملہ ہے اور ایسے افراد کو ایسے حالات میں رکھنا جن کا معیار جیلوں جیسا ہو، بنیادی حقوق کے مسائل پیدا کرتا ہے۔
کیمپ ایسٹ مونٹانا دراصل صرف ایک حراستی مرکز نہیں رہا، بلکہ یہ امریکہ کی بدلتی ہوئی امیگریشن پالیسی کی علامت بن گیا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے نفاذ کی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ سمجھتی ہے، دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکن اسے اس بات کی مثال قرار دیتے ہیں کہ تیزی سے پھیلایا گیا نظام کس طرح نگرانی کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
اب آنے والے مہینوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا حکومت ان مراکز میں شفافیت اور نگرانی بڑھاتی ہے یا امیگریشن حراست کا یہ نیا ماڈل مزید توسیع پاتا ہے۔





