مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی کمپنیاں، کم ملازمین اور کم انتظامی عہدوں کے ساتھ کاروبار کا نیا ماڈل پیش کر رہی ہیں

مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی کمپنیاں، کم ملازمین اور کم انتظامی عہدوں کے ساتھ کاروبار کا نیا ماڈل پیش کر رہی ہیں

مصنوعی ذہانت کے نئے دور میں ایک مختلف قسم کی کمپنیاں سامنے آ رہی ہیں جنہیں اے آئی نیٹو کمپنیاں کہا جا رہا ہے۔ ان اداروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی بڑی کمپنیوں کے برعکس کم ملازمین، چھوٹی ٹیموں اور کم انتظامی سطحوں کے ساتھ تیزی سے ترقی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ماضی میں کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو اربوں ڈالر کی قدر تک پہنچنے کے لیے ہزاروں ملازمین، بڑے دفاتر اور کئی درجوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن مصنوعی ذہانت نے اس تصور کو بدلنا شروع کردیا ہے۔

اب کچھ نئی کمپنیاں ایسے سافٹ ویئر اور اے آئی نظام استعمال کر رہی ہیں جو پہلے درجنوں یا سینکڑوں افراد کا کام چند ماہرین کی مدد سے انجام دے سکتے ہیں۔ ایک چھوٹی ٹیم تحقیق، مصنوعات کی تیاری، مارکیٹنگ اور صارفین کی خدمت کے کئی کام خودکار نظاموں کے ذریعے سنبھال سکتی ہے۔

یہ کمپنیاں روایتی اداروں کی طرح بڑی انتظامی تہیں نہیں بناتیں۔ کم سربراہ، کم مینیجر اور زیادہ خودمختار انجینئرز ان کے کام کرنے کے انداز کا حصہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ فیصلے تیزی سے ہوں اور نئی مصنوعات جلد مارکیٹ تک پہنچ سکیں۔

سرمایہ کاروں کو اس ماڈل میں خاص دلچسپی اس لیے بھی ہے کیونکہ کم ملازمین کا مطلب اکثر کم اخراجات اور زیادہ منافع کی صلاحیت ہوتا ہے۔ اگر ایک چھوٹی ٹیم ایسی کمپنی بنا سکتی ہے جس کی آمدنی کروڑوں یا اربوں ڈالر تک پہنچ جائے تو اس کا کاروباری ڈھانچہ روایتی کمپنیوں سے بالکل مختلف ہوگا۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف کم ملازمین ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ بڑی کمپنیوں کو اب بھی عالمی سطح پر فروخت، قانونی معاملات، صارفین کا اعتماد، سائبر سکیورٹی اور طویل مدتی تحقیق کے لیے بڑے وسائل درکار ہوتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے ایک نیا سوال پیدا کردیا ہے: کیا مستقبل کی بڑی کمپنیاں ہزاروں ملازمین والی دیوہیکل تنظیمیں ہوں گی، یا چند درجن انتہائی قابل افراد پر مشتمل چھوٹی لیکن طاقتور ٹیمیں؟

وال اسٹریٹ اور سلیکون ویلی میں اب یہی بحث جاری ہے کہ اے آئی کا دور صرف نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کم افراد کے ساتھ زیادہ طاقتور کاروبار بنانے کا نیا فلسفہ بھی لا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید