بلوچستان میں ایک دن، کئی محاذ: خضدار حملہ ریاستی رٹ اور بڑھتے ہوئے شورش کے لیے نیا امتحان
بلوچستان ایک بار پھر خونریز واقعات کی لپیٹ میں ہے۔ صرف چند دنوں کے اندر صوبے میں ہونے والے بڑے حملوں نے یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آخر پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ مسلسل بدامنی، شورش اور مسلح تصادم کا مرکز کیوں بنا ہوا ہے
8 جولائی 2026 کو خضدار میں پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر ہونے والا حملہ حالیہ برسوں کے خطرناک واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے خودکش گاڑیوں اور مسلح کارروائی کے ذریعے رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ حملے میں میر شفیق مینگل محفوظ رہے، تاہم ان کے حفاظتی عملے کے قریبا بیس افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں رپورٹس کے مطابق خود کش حملہ آوروں کی ایک بڑی تعداد بھی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوئی، اور یہ تعداد دس سے زائد بتائ جاتی ہے
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بلوچستان پہلے ہی کئی بڑے حملوں کی زد میں تھا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق چند دنوں کے دوران صوبے میں تین بڑے واقعات میں درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ریاستی اداروں نے جوابی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں مسلح افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا
خضدار کا حملہ صرف ایک سیاسی شخصیت پر حملہ نہیں بلکہ اس سوال کی علامت بھی ہے کہ بلوچستان میں ریاستی طاقت، سیاسی عمل اور عسکریت پسندی کے درمیان کشمکش کس نہج تک پہنچ چکی ہے
میر شفیق مینگل حالیہ عرصے میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے،ان کی سیاسی وابستگی اور ماضی کے حوالے سے بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی رہی ہیں،بعض ناقدین ان کے ماضی کے کردار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں ایک قبائلی اور سیاسی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں،یہی تضادات بلوچستان کی پیچیدہ سیاست کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں شخصیات، قبائلی اثر و رسوخ، ریاستی تعلقات اور مقامی طاقت کے مراکز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
بلوچستان کا مسئلہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم، ریاست اور مقامی آبادی کے تعلقات، اور طویل عرصے سے جاری محرومیوں کے سوالات سے بھی جڑا ہوا ہے،دوسری طرف ریاستی ادارے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عسکری قیادت نے حالیہ بیانات میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ صرف طاقت کے استعمال سے بلوچستان کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا،گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ جہاں ایک طرف ریاستی ادارے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سیاسی مکالمے، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد کا بحران بھی برقرار رہا ہے
آج بلوچستان میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض چند مسلح گروہوں کا مسئلہ ہے یا ایک بڑے سیاسی اور سماجی بحران کی علامت؟ اگر ریاست صرف عسکری زبان میں جواب دیتی رہی اور سیاسی سطح پر بنیادی شکایات کا حل تلاش نہ کیا گیا تو بدامنی کا یہ چکر مزید طویل ہو سکتا ہے
خضدار کا حملہ ایک وارننگ ہے کہ بلوچستان میں مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے





