Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزمہمند کے قبائلی عمائدین کا ہزاروں شناختی کارڈ بحال کرنے کا مطالبہ

ٹرینڈنگ

مہمند کے قبائلی عمائدین کا ہزاروں شناختی کارڈ بحال کرنے کا مطالبہ

مہمند کے قبائلی عمائدین کا ہزاروں شناختی کارڈ بحال کرنے کا مطالبہ

پشاور: مہمند ضلع کے قبائلی عمائدین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا قانون کی دفعہ 18 کے تحت بلاک کیے گئے ہزاروں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ عمائدین نے شناختی کارڈز کی تصدیق کے موجودہ طریقۂ کار کو مہمند کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں مہمند لویہ جرگہ کے ارکان نے، سلیم خان مہمند کی قیادت میں، پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں کے رہائشیوں سے 1978 تک کے ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جن میں پرانے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔ عمائدین کے مطابق زیادہ تر شہریوں کے پاس یہ پرانے ریکارڈ موجود نہیں، جس کے باعث ہزاروں شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں۔
عمائدین نے کہا کہ شناختی کارڈ کی تصدیق کے لیے مہمند کے شہریوں کو چارسدہ جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تصدیقی مرکز کو چارسدہ سے منتقل کرکے مہمند کے ضلعی ہیڈکوارٹر غلنئی میں قائم کیا جائے۔
مہمند لویہ جرگہ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کے لیے نیا اور واضح طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جاسکے۔
عمائدین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مہمند کے شہری سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ مسلسل مشکلات سے مایوس بعض شہری افغانستان منتقل ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
مہمند کے عمائدین کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے تصدیق کا عمل ایسا ہونا چاہیے جو قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے قابلِ عمل بھی ہو۔

مزید پڑھیں