Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںغزہ امن منصوبہ: اسرائیل کی پسپائی سے انکار، جنگ بندی کی کوششیں...

ٹرینڈنگ

غزہ امن منصوبہ: اسرائیل کی پسپائی سے انکار، جنگ بندی کی کوششیں خطرے میں

غزہ امن منصوبہ: اسرائیل کی پسپائی سے انکار، جنگ بندی کی کوششیں خطرے میں

غزہ/تل ابیب: غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوگیا ہے، کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
گزشتہ ماہ حماس نے اپنے ہتھیار ایک فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ منصوبے کے تحت حماس کی غیر مسلحی اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا بیک وقت ہونا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا تھا، تاہم اسرائیل کی نئی شرط نے امن منصوبے کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے نئی شرائط عائد کرنا غزہ میں قبضے کے خاتمے کی سنجیدگی پر شکوک پیدا کرتا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ امن منصوبے پر اب بھی قائم ہے۔
اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع میں ماضی میں بھی فلسطینی فریق سے مسلسل سمجھوتوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کو اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی زیادہ گنجائش ملتی رہی ہے۔ اداریے نے ٹرمپ کے لیے بھی اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا وہ اسرائیلی حکومت پر اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے مؤثر دباؤ ڈالیں گے؟
غزہ کی تعمیرِ نو اور امن کو اسرائیل کی داخلی سیاست سے یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں اکتوبر کے انتخابات سے قبل فلسطینیوں کو رعایت دینے سے متعلق سیاسی دباؤ کو امن عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
تحریر کے مطابق اگر فلسطینیوں کے لیے پُرامن سیاسی حل کے راستے مسلسل بند کیے جاتے رہے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا جاتا رہا تو خطے میں تشدد کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
غزہ میں پائیدار امن کے لیے اسرائیل کو موجودہ طرزِعمل تبدیل کرنا ہوگا، جبکہ امریکا کو بھی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

مزید پڑھیں