اسلام آباد کو فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا شہر بنانے پر سوالات اٹھنے لگے
اسلام آباد کو فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا شہر بنانے پر سوالات اٹھنے لگے
اسلام آباد: دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے نام پر مسلسل فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی تعمیر پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ڈان کے تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ تیز رفتار تعمیرات کے شوق میں شہر کی سبز خوبصورتی اور منفرد شناخت متاثر ہو رہی ہے۔
مضمون کے مطابق مارگلہ روڈ اور ایونیو کے سنگم پر ایک نیا انڈر پاس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مصنفہ عارفہ نور کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں حالیہ برسوں کے دوران متعدد مقامات پر فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے دارالحکومت کی اصل خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔
تحریر میں خاص طور پر ایف-9 پارک کے اطراف تعمیر کیے گئے فلائی اوورز پر اعتراض کیا گیا ہے۔ مصنفہ کے مطابق ایف-9 پارک اسلام آباد کے مرکز میں ایک وسیع سبز علاقہ ہے اور اس کا موازنہ نیویارک کے سینٹرل پارک سے کیا جا سکتا ہے، مگر فلائی اوورز نے اس کے قدرتی مناظر کو متاثر کیا ہے۔
مضمون میں نئے انڈر پاسز کے معیارِ تعمیر پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایف-9 پارک کے قریب تعمیر کیے گئے ایک انڈر پاس کے ڈیزائن پر آڈٹ اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے ڈیزائن میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ بارش کے بعد بعض نئی سڑکوں کی حالت خراب ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مصنفہ کے مطابق فیصل ایونیو پر بھی نیا انڈر پاس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے شہریوں کی رائے لینے کا عمل محدود دکھائی دیتا ہے۔ مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی منصوبہ بندی میں شہریوں کی حقیقی نمائندگی اور جواب دہی کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
تحریر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترقی کا مطلب صرف سڑکیں، پل اور انڈر پاسز تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایسے فیصلے کرنا بھی ہے جو شہر کی خوبصورتی، ماحول اور شہریوں کے مفاد کو طویل مدت تک محفوظ رکھیں۔


