Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی شکست کے باوجود ان کی سیاست زندہ رہے گی، صرف انتخابات سے نظام نہیں بدلتا

ٹرمپ کی شکست کے باوجود ان کی سیاست زندہ رہے گی، صرف انتخابات سے نظام نہیں بدلتا

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا خاتمہ شروع ہو گیا ہے تاہم یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ اس سے پہلے 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کے باوجود ٹرمپ کی سیاسی تحریک ختم نہیں ہوئی تھی اور 4 سال بعد وہ دوبارہ اقتدار میں آگئے تھے اس مرتبہ بھی ریپبلکن پارٹی کی شکست کو ٹرمپ ازم کے خاتمے کی علامت سمجھنا ایک بڑی سیاسی غلطی ہوگی
ٹرمپ 2028 کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ حصہ نہیں لے سکیں گے، اس لیے بطور امیدوار ان کا سیاسی سفر اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ان کے نظریات اور انہیں حمایت فراہم کرنے والا عوامی طبقہ بدستور موجود رہے گا اصل سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے بعد ان کی سیاسی تحریک کس شکل میں آگے بڑھے گی اور امریکی جمہوریت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے
امریکی سیاست میں بڑی دولت اور طاقتور مالی مفادات کا اثر ہمیشہ سے اہم رہا ہے ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخ بھی بیرون ملک امریکی طاقت اور فوجی مداخلت کی حمایت سے خالی نہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران جو بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کو مسلسل حمایت نے بھی امریکی عوام کے ایک حصے میں شدید ناراضی پیدا کی، جس سے 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کو فائدہ پہنچا
حالیہ انتخابات میں عبدالسیّد جیسے ترقی پسند امیدواروں کی کامیابی ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ امیدوار بیرون ملک سامراجی جنگوں کی مخالفت اور امریکا کے اندر معاشی اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں نیویارک کے میئر کے انتخاب میں زہران ممدانی کی کامیابی بھی اسی سیاسی رجحان کی مثال ہے نوجوان امریکیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہے اور اسرائیل کی غیر مشروط امریکی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ترقی پسند دھڑا پارٹی کی اندرونی قیادت اور پھر صدارتی انتخاب میں کس حد تک کامیاب ہو پاتا ہے
دوسری جانب ٹرمپ کی ریپبلکن تحریک کا عوامی حلقہ بھی مضبوط اور منظم ہے۔ اسے مذہبی قدامت پسندوں، خصوصاً عیسائی ایونجیلیکل طبقے کی حمایت حاصل ہے ٹرمپ نے 2024 کے انتخابات سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک جنگیں ختم کریں گے، امریکی صنعتوں میں روزگار واپس لائیں گے اور عوام کی خوشحالی یقینی بنائیں گے لیکن ایران کے خلاف طویل جنگ اور اس کے نتیجے میں مہنگائی نے ان کے حامیوں میں مایوسی پیدا کی ہے نائب صدر جے ڈی وینس بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک اہم وجہ بنی اس کے باوجود معاشی جمود، Immigrants کی مخالفت، بائیں بازو کے خلاف جذبات اور امریکی صنعتوں کی بیرون ملک منتقلی جیسے موضوعات ٹرمپ کی سیاسی تحریک کو مستقبل میں بھی حمایت فراہم کر سکتے ہیں
برازیل کی مثال بھی اس صورتحال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے وہاں بائیں بازو کے رہنما لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے سابق صدر بولسونارو کے سیاسی نظریات اور ان کے خاندان کی دائیں بازو کی تحریک کو انتخابی میدان میں شکست دے کر چوتھی مرتبہ صدارت حاصل کی۔ برازیل میں بائیں بازو کی عوامی بنیادیں امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، جس کی وجہ سے لولا آخری مرحلے میں ووٹروں کو اپنے حق میں متحرک کرنے میں کامیاب رہے لیکن بولسونارو خاندان کی دائیں بازو کی تحریک بھی منظم عوامی حمایت رکھتی ہے اور انتخابی شکست کے بعد دوبارہ طاقت حاصل کر سکتی ہے۔ 81 سالہ لولا اور ان کی ورکرز پارٹی کے لیے آنے والے برسوں میں اس تحریک کا مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا
دنیا کے کئی حصوں میں دائیں بازو کی سیاست مضبوط ہو رہی ہے، جبکہ ریاستی اداروں اور طاقتور معاشی مفادات کے اثر سے جمہوری آزادیوں کو بھی محدود کیا جا رہا ہے ایسے حالات میں امریکا، برازیل یا کسی دوسرے ملک میں ترقی پسند امیدواروں کی انتخابی کامیابی بذات خود نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتی انتخابات عام شہریوں کو اپنی سیاسی پسند کا اظہار کرنے کا موقع ضرور دیتے ہیں، لیکن اس کے لیے محنت کش طبقے اور عام لوگوں کو منظم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ انتخابی کامیابی کو حقیقی معاشی اور سماجی تبدیلی میں تبدیل کیا جا سکے
پاکستان کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہاں عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے اور اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت چلانے کا حق مسلسل چیلنج ہوتا رہا ہے۔ 1947 کے بعد فوجی اور بیوروکریٹک طاقت کے مراکز نے ملک کے سیاسی نظام پر اپنا اثر قائم رکھا پاکستان میں پہلا عام انتخاب 1970 میں ہوا، لیکن اس کے نتائج کے مطابق اقتدار منتقل کرنے کے بجائے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا
اس کے بعد بھی پاکستان میں انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں بھی انتخابی نتائج اور عوام کے اصل فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ نے بھی جمہوری نظام کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کیے ہیں
پاکستان میں ترقی پسند سیاسی قوتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی جبر اور آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جمہوریت کے اس بنیادی تصور کو برقرار رکھیں جس کے مطابق ملک پر حکمرانی کا حق عوام کو حاصل ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک مشترکہ سیاسی اور معاشی پروگرام بھی تشکیل دینا ہوگا جو تشدد، سیاسی جبر اور قومی شناخت کے گہرے بحران سے دوچار ملک کو آگے لے جانے کا راستہ فراہم کر سکے

قومی خبریں سے مزید