برطانیہ میں نوجوان طالب علم کے قتل پر سکھ ملزم کی سزا میں 4 سال اضافہ، عدالت نے سابقہ سزا ناکافی قرار دے دی
برطانیہ کی اپیل کورٹ نے ایک نوجوان طالب علم ہنری نوواک کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ برطانوی سکھ شہری وکرم ڈگوا کی عمر قید کی کم از کم مدت میں 4 سال کا اضافہ کر دیا ہے عدالت نے قرار دیا کہ پہلے دی گئی 21 سال قید کی سزا جرم کی سنگینی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم تھی، اس لیے اسے بڑھا کر 25 سال کر دیا گیا ہے
یہ قتل گزشتہ سال دسمبر میں جنوبی انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں پیش آیا تھا، جس کے بعد برطانیہ میں شدید احتجاج اور عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا مقتول ہنری نوواک کی عمر 18 سال تھی اور اسے متعدد مرتبہ چاقو کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا
مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پولیس نے زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہنری نوواک کو ہتھکڑیاں لگا دی تھیں، جبکہ وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا ملزم وکرم ڈگوا نے پولیس کو بتایا تھا کہ مقتول نے اس کے خلاف نسلی بنیادوں پر توہین آمیز رویہ اختیار کیا تھا، تاہم اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا گیا
عدالت کے 3 رکنی بینچ نے جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 21 سال کی کم از کم سزا قتل کی مجموعی سنگینی کی مناسب عکاسی نہیں کرتی تھی چیف جج سو کار نے کہا کہ سابقہ سزا صرف کم نہیں بلکہ غیر معمولی حد تک نرم تھی چنانچہ کم از کم مدت 21 سال سے بڑھا کر 25 سال کر دی گئی، البتہ مقدمے سے پہلے حراست میں گزارے گئے 175 دن اس مدت میں شمار ہوں گے
اس مقدمے میں ملزم کی والدہ کیرن کور کو بھی قتل میں استعمال ہونے والا روایتی چاقو چھپانے کی کوشش پر 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی سکھ مذہب میں بعض افراد مذہبی علامت کے طور پر کرپان رکھتے ہیں، تاہم اس مقدمے میں استعمال ہونے والا چاقو قتل کا آلہ تھا
ملزم نے اپنی سزا کم کرانے کے لیے اپیل دائر کی تھی، جبکہ حکومت نے اس کے برعکس سزا میں اضافے کی درخواست کی تھی اپیل کورٹ نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کم از کم قید کی مدت میں اضافہ کر دیا
یہ مقدمہ برطانیہ میں نسلی تعلقات اور امیگریشن سے متعلق بحث کا موضوع بھی بن گیا تھا قتل کے بعد ہونے والے احتجاج میں امیگریشن مخالف رہنماؤں، خصوصاً ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فراج اور امریکی ارب پتی ایلون مسک نے بھی اس واقعے کو اپنے سیاسی مؤقف کے حق میں استعمال کیا تھا انہوں نے اسے سفید فام برطانوی شہریوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کی مثال کے طور پر پیش کیا، تاہم مقدمے کی عدالتی کارروائی میں قتل کے حقائق اور ملزم کے دعوے الگ قانونی معاملات کے طور پر زیر بحث رہے
مقتول کے اہل خانہ نے سزا میں اضافے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، لیکن کہا کہ اس سے ان کے دکھ میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور انصاف کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی
برطانوی حکومت نے گزشتہ ہفتے اس قتل کے حالات اور پولیس کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے آزادانہ تحقیقات کا اعلان بھی کیا تھا مقتول کے خاندان نے اس فیصلے کو اپنے لیے پہلی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے





