Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مصنوعی ذہانت طب کی تاریخ بدلنے کے قریب، لاعلاج بیماریوں کے علاج سے انسانی عمر میں 10 سے 15 صحت مند سال اضافے تک، سائنس ایک نئے دور میں داخل

مصنوعی ذہانت طب کی تاریخ بدلنے کے قریب، لاعلاج بیماریوں کے علاج سے انسانی عمر میں 10 سے 15 صحت مند سال اضافے تک، سائنس ایک نئے دور میں داخل

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنس دانوں کو یہ امید پیدا ہو رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایسی بیماریوں کے علاج دریافت کیے جا سکتے ہیں جنہیں کئی دہائیوں سے لاعلاج یا انتہائی مشکل سمجھا جاتا رہا ہے،کینسر، پھیپھڑوں کی مہلک بیماریوں، موروثی امراض اور اعصابی بیماریوں سمیت طب کے کئی شعبوں میں تحقیق کی رفتار تیز ہو رہی ہے،اس تبدیلی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اب کمپیوٹر محض پہلے سے موجود ادویات کا تجزیہ نہیں کر رہے بلکہ نئے مالیکیولز، پروٹینز اور ممکنہ دواؤں کے ڈیزائن میں بھی سائنس دانوں کی مدد کر رہے ہیں
اس دوڑ میں دنیا کی بڑی دوا ساز کمپنیاں، تحقیقی ادارے اور ٹیکنالوجی کی سرکردہ کمپنیاں شامل ہو چکی ہیں،اوپن اے آئی نے اپریل 2026 میں حیاتیاتی تحقیق اور ادویات کی تیاری کے لیے اپنا خصوصی ماڈل جی پی ٹی روزالنڈ متعارف کرایا، جس کا مقصد پروٹین انجینئرنگ، جینیات، کیمیائی تحقیق اور نئی ادویات کی تیاری کے مراحل میں سائنس دانوں کی صلاحیت بڑھانا ہے،اکتوبر 2026 میں اوپن اے آئی نے دوا سازی کے عمل کو منظم کرنے والے پلیٹ فارم آرکسٹرا بائیو کو بھی حاصل کر لیا، تاکہ تحقیق سے لے کر دوا کی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز تک مختلف مراحل کو ایک مربوط نظام میں لایا جا سکے۔
این تھروپک بھی اس میدان میں داخل ہو چکی ہے،کمپنی نے یکم نومبر سے چند روز قبل اپنی تازہ پیش رفت میں بتایا کہ اس نے چھ بائیوٹیک اور دوا ساز اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ کو نئی ادویات کی تحقیق میں استعمال کیا ہے،ان شراکت داروں میں برسٹل مائرز اسکوب، بگ ہیٹ بایوسائنسز، اینویڈا اور جنریٹ بایومیڈیسنز شامل ہیں،کمپنی کے مطابق اس نے بچوں میں پائی جانے والی موروثی عضلاتی بیماریوں کی بعض نایاب اقسام کے لیے اپنی تحقیق بھی شروع کی ہے،تاہم این تھروپک نے واضح کیا ہے کہ اس کے بیشتر منصوبے ابھی ابتدائی یا تجربہ گاہوں کی سطح پر ہیں اور انسانی آزمائشوں کے مرحلے تک نہیں پہنچے
اس نئی سائنسی دوڑ کی ایک نمایاں مثال پھیپھڑوں کی بیماری آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس ہے، جس میں پھیپھڑوں کے ٹشوز بتدریج سخت اور خراب ہوتے جاتے ہیں،اس بیماری کے مریضوں کی اوسط بقا تشخیص کے بعد عموماً 2 سے 4 سال بتائی جاتی ہے،جون 2025 میں معروف طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے اس حوالے سے غیرمعمولی توجہ حاصل کی،انسلیکو میڈیسن کے تیار کردہ رینٹوسرٹب نامی مرکب کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت اور ڈیزائن کیا گیا تھا،اس دوا کے پہلے مرحلے کے بعد 71 مریضوں پر دوسرے مرحلے کا باقاعدہ تجربہ کیا گیا،12 ہفتوں کے دوران زیادہ خوراک لینے والے گروپ میں پھیپھڑوں کی گنجائش کے پیمانے میں اوسطاً 98.4 ملی لیٹر بہتری دیکھی گئی، جبکہ پلیسبو لینے والے گروپ میں کمی ریکارڈ ہوئی،یہ نتیجہ اہم ضرور ہے، لیکن آزمائش کا دورانیہ مختصر اور مریضوں کی تعداد محدود تھی،اس لیے اسے بیماری کا مکمل علاج یا حتمی کامیابی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا
ماہرین کے نزدیک مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا فائدہ صرف نئی دوا ایجاد کرنا نہیں بلکہ اس پورے عمل کو تیز اور زیادہ مؤثر بنانا ہے،عام طور پر کسی نئی دوا کو ابتدائی ہدف کی شناخت سے لے کر امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری تک پہنچنے میں تقریباً 10 سے 15 سال لگتے ہیں،اس دوران ہزاروں ممکنہ مرکبات کی جانچ، تجربہ گاہوں میں آزمائش، جانوروں پر تحقیق اور پھر انسانوں پر مختلف مراحل کے کلینیکل ٹرائلز کیے جاتے ہیں،مصنوعی ذہانت ان مراحل میں ایسے مرکبات کی شناخت کر سکتی ہے جن کے کامیاب ہونے کا امکان نسبتاً زیادہ ہو، ان کے ممکنہ مضر اثرات کی پیش گوئی کر سکتی ہے اور تحقیق کے کئی پیچیدہ کاموں کو تیز کر سکتی ہے
اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو پروٹین کی ساخت اور انسانی جسم کے اندر بیماری پیدا کرنے والے نظاموں کو سمجھنا ہے،گوگل ڈیپ مائنڈ کا الفا فولڈ اس شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوا ہے،اس ٹیکنالوجی نے سائنس دانوں کے لیے پروٹین کی تین جہتی ساخت سمجھنا بہت آسان بنا دیا، جس سے نئی ادویات کے ممکنہ اہداف کی شناخت میں مدد ملی،اب جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز جینیاتی معلومات، پروٹینز اور کیمیائی مرکبات کا ایک ساتھ تجزیہ کرکے ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جن تک روایتی تحقیق کے ذریعے پہنچنے میں برسوں لگ سکتے تھے
لیکن اس سائنسی انقلاب کا سب سے زیادہ پرکشش اور شاید سب سے بڑا معاشی میدان انسانی عمر بڑھانے کی تحقیق ہے، جسے لونجیویٹی ریسرچ کہا جاتا ہے،اس شعبے میں سائنس دان اب صرف بیماریوں کا علاج کرنے کے بجائے خود بڑھاپے کے حیاتیاتی اسباب کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں،تحقیق کے اہم موضوعات میں جسم کے خلیوں کا بوڑھا ہونا، ڈی این اے میں وقت کے ساتھ جمع ہونے والی تبدیلیاں، خلیوں کی مرمت کا نظام کمزور ہونا، دائمی سوزش اور جسم کے مدافعتی نظام کی عمر کے ساتھ کارکردگی میں کمی شامل ہیں
سائنس دانوں کی ایک بڑی تعداد ایسے خلیوں پر تحقیق کر رہی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی معمول کی تقسیم اور کارکردگی کھو دیتے ہیں، مگر جسم میں موجود رہ کر اردگرد کے صحت مند خلیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں،انہیں سینیسنٹ سیلز کہا جاتا ہے۔ ان خلیوں کو ختم کرنے یا ان کے نقصان دہ اثرات کو کم کرنے والی ممکنہ ادویات کو سینولائٹکس کا نام دیا گیا ہے،جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں ان طریقوں سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جبکہ انسانوں پر ابتدائی تجربات بھی جاری ہیں،تاہم ستمبر 2025 میں نیچر ایجنگ میں شائع ہونے والے تجزیے نے واضح کیا کہ انسانوں میں ان طریقوں کے حقیقی طبی فوائد کے شواہد ابھی ناکافی ہیں،
اس میدان میں میٹفارمن، ریپامائسن اور دیگر مرکبات بھی تحقیق کا موضوع ہیں، جن کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا وہ عمر بڑھنے کے عمل سے وابستہ حیاتیاتی تبدیلیوں کو سست کر سکتے ہیں،اس کے ساتھ خلیوں کی مرمت، خراب خلیوں کی صفائی اور جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی سرمایہ کاری ہو رہی ہے،تاہم ان میں سے کسی دوا کو ابھی انسانوں کی عمر 10 یا 15 سال بڑھانے کا ثابت شدہ علاج نہیں کہا جا سکتا
نیچر میڈیسن نے 11 اگست 2026 کو اپنے ایک اداریے میں اسی معاملے پر احتیاط کی ضرورت پر زور دیا،جریدے کے مطابق بڑھاپے کے خلاف علاج کی تحقیق میں امکانات بہت ہیں، لیکن انسانوں میں حقیقی طبی فائدے کے شواہد ابھی محدود ہیں،مستقبل کے علاج کے لیے ایسے قابل اعتماد پیمانے اور طویل مدتی انسانی آزمائشیں ضروری ہیں جن سے ثابت ہو سکے کہ کوئی دوا واقعی بیماریوں کو روکتی، صحت مند زندگی کے سال بڑھاتی اور محفوظ رہتی ہے
اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی غیرمعمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے،بڑی دوا ساز کمپنیاں اب ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہی ہیں، جبکہ نئی بائیوٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت، روبوٹک تجربہ گاہوں اور جینیاتی ڈیٹا کو یکجا کرکے ادویات کی تیاری کے نئے طریقے آزما رہی ہیں،ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی نوو نورڈسک نے ستمبر 2026 میں این تھروپک کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا، جس کا مقصد کلاڈ کی مدد سے نئی ادویات کی تحقیق اور تیاری کو تیز کرنا ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تجربہ نہیں رہی بلکہ عالمی دوا سازی کی صنعت کی بنیادی حکمت عملی کا حصہ بنتی جا رہی ہے
اگلے 3 سے 5 سال اس میدان کے لیے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں،ممکن ہے اس عرصے میں بعض کینسرز، جینیاتی امراض، اعصابی بیماریوں اور پھیپھڑوں کی پیچیدہ بیماریوں کے لیے ایسے علاج سامنے آئیں جو موجودہ طریقوں سے زیادہ مؤثر ہوں،اسی طرح بڑھاپے سے وابستہ بیماریوں کو روکنے یا ان کے آغاز کو مؤخر کرنے والی ادویات میں بھی اہم پیش رفت متوقع ہے،لیکن انسانی زندگی میں 10 سے 15 صحت مند سال کا اضافہ فی الحال ایک سائنسی ہدف اور امید ہے، ثابت شدہ طبی نتیجہ یا اگلے چند برسوں کی یقینی پیش گوئی نہیں
اصل تبدیلی شاید یہ ہو گی کہ طب کا مرکز صرف بیمار ہونے کے بعد علاج کرنے سے آگے بڑھ کر بیماری کے حیاتیاتی اسباب کی پہلے سے شناخت، ان کی روک تھام اور بڑھاپے کے دوران صحت مند جسمانی و ذہنی صلاحیت برقرار رکھنے کی طرف منتقل ہو جائے،اگر مصنوعی ذہانت، جینیاتی تحقیق اور جدید ادویات کی تیاری میں موجودہ پیش رفت کامیابی سے انسانی آزمائشوں میں بھی ثابت ہو گئی تو آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند زندگی کا تصور آج کے انسان سے بالکل مختلف ہو سکتا ہے،یہ صرف نئی ادویات کی کہانی نہیں بلکہ انسانی صحت اور بڑھاپے کے بارے میں صدیوں پرانے تصور کو بدلنے کی سائنسی کوشش ہے
اس رپورٹ میں نیچر میڈیسن، نیچر ایجنگ، نیچر ریویوز ڈرگ ڈسکوری، اوپن اے آئی اور این تھروپک کی 2025 اور 2026 کی تحقیقات اور اعلانات کو بنیاد بنایا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید