کائنات کی سب سے خوفناک چیز کیا ہے؟ بلیک ہولز، مقناطیسی ستارے اور ایسی کائناتی تباہی جس کی طاقت کا تصور بھی ممکن نہیں
خلا بظاہر خاموش، خوبصورت اور پُرسکون دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی وسعتوں میں ایسے فلکیاتی اجسام اور واقعات موجود ہیں جن کی تباہ کن طاقت انسانی عقل کو حیران کر دیتی ہے،سائنٹیفک امریکن میں ماہر فلکیات فل پلیٹ نے ہالووین کے موقع پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کائنات کے چند خوفناک ترین مظاہر کا جائزہ لیا ہے،ان میں ایسے ستارے، مقناطیسی نیوٹران ستارے، گاما شعاعوں کے دھماکے اور عظیم بلیک ہولز کے تصادم شامل ہیں جو ناقابل تصور توانائی خارج کر سکتے ہیں
مضمون میں سب سے پہلے وولف رائٹ ستاروں کا ذکر کیا گیا ہے،یہ غیر معمولی طور پر بڑے اور روشن ستارے ہیں جن کے اندر انتہائی بلند درجہ حرارت اور دباؤ پر جوہری عمل جاری رہتا ہے،ان میں سے ایک ستارہ R136a1 ہے جو سورج سے کئی سو گنا زیادہ کمیت رکھتا ہے اور اس کی روشنی سورج کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ گنا زیادہ ہے،اگر ہمارے نظام شمسی میں سورج کی جگہ یہ ستارہ موجود ہوتا تو زمین کا ٹھوس وجود برقرار رہنا مشکل ہو جاتا،خوش قسمتی سے یہ ستارہ ہماری کہکشاں میں نہیں بلکہ ایک دوسری کہکشاں میں واقع ہے
اس کے بعد نیوٹران ستاروں کی ایک انتہائی طاقتور قسم، میگنیٹارز، کا ذکر ہے،نیوٹران ستارے کسی بڑے ستارے کے سپرنووا دھماکے کے بعد باقی رہ جانے والے انتہائی کثیف مرکز سے بنتے ہیں،ان کا مادہ اتنا زیادہ دباؤ کے تحت سمٹ جاتا ہے کہ ایک مکعب سینٹی میٹر مادے کا وزن کئی سو ملین ٹن تک ہو سکتا ہے،ان کی سطح پر کششِ ثقل زمین سے کئی ارب گنا زیادہ ہوتی ہے،میگنیٹارز کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان سے ایک ہزار کھرب گنا سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے
دسمبر 2004 میں SGR 1806-20 نامی میگنیٹار سے خارج ہونے والی توانائی کی ایک شدید لہر زمین تک پہنچی،یہ ستارہ ہم سے تقریباً 50 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے اخراج نے زمین کے مقناطیسی حفاظتی حصار کو سکیڑ دیا، مصنوعی سیاروں کے نظام کو متاثر کیا اور فضا کے بعض حصوں کو جزوی طور پر آئنائز کر دیا،اگرچہ زمین پر نقصان محدود رہا، لیکن اس واقعے نے ظاہر کر دیا کہ ہماری کہکشاں میں موجود انتہائی دور دراز اجسام بھی طاقتور کائناتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں
تیسرا خطرناک مظہر مختصر دورانیے کے گاما شعاعوں کے دھماکے ہیں،یہ اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جب دو نیوٹران ستارے ایک دوسرے کے گرد گردش کرتے ہوئے بالآخر آپس میں ٹکرا کر ضم ہو جاتے ہیں،اس تصادم کے نتیجے میں مادے اور توانائی کا ایک انتہائی شدید اخراج ہوتا ہے، جس کی روشنی چند لمحوں کے لیے سورج کی روشنی سے اربوں گنا زیادہ ہو سکتی ہے،ایسے واقعات ہماری کہکشاں میں اب تک نہیں دیکھے گئے اور ان کے قریب واقع ہونے کا امکان انتہائی کم ہے، تاہم ان کی طاقت کسی بھی عام تصور سے کہیں زیادہ ہے
تاہم فل پلیٹ کے نزدیک کائنات کا سب سے خوفناک منظر دو عظیم الجثہ بلیک ہولز کا آپس میں ضم ہونا ہے،یہ بلیک ہولز ہمارے سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ کمیت رکھتے ہیں،جب دو کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کے مراکز میں موجود بلیک ہولز بھی ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے ہیں اور اربوں سال کے عمل کے بعد بالآخر ضم ہو کر ایک اور زیادہ بڑا بلیک ہول بنا سکتے ہیں
اس عمل کے دوران ان کی مجموعی کمیت کا ایک قابل ذکر حصہ توانائی میں تبدیل ہو کر ثقلی لہروں کی صورت میں کائنات میں پھیل جاتا ہے،سائنس دانوں کے مطابق اس تصادم کے ایک سیکنڈ کے انتہائی مختصر حصے میں خارج ہونے والی توانائی سورج کی ایک ارب کھرب سال سے زیادہ کی مجموعی توانائی کے برابر ہو سکتی ہے،یہ توانائی قابل مشاہدہ کائنات کے تمام ستاروں کی مجموعی طاقت سے بھی زیادہ ہوتی ہے،اس واقعے کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں روشنی کا ایک بھی ذرہ پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ خارج ہونے والی توانائی ثقلی لہروں کی شکل میں ہوتی ہے
ایسے عظیم تصادم اوسطاً ہم سے اربوں نوری سال دور ہوتے ہیں، اس لیے ان کی توانائی زمین تک پہنچتے پہنچتے انتہائی کم ہو جاتی ہے اور فوری خطرہ پیدا نہیں کرتی،لیکن کائنات میں ایسے واقعات کا مسلسل وقوع پذیر ہونا ہی ایک ماہر فلکیات کے لیے حیرت اور خوف کا باعث ہے
فل پلیٹ کے مطابق کائنات میں خوفناک چیز صرف کوئی ایک بلیک ہول یا تباہ کن ستارہ نہیں، بلکہ قدرت کے وہ قوانین اور طاقتیں ہیں جو ایسے واقعات کو ممکن بناتی ہیں،انسان جس زمین پر رہتا ہے، وہ کائنات کی بے پناہ وسعتوں میں ایک انتہائی معمولی مقام رکھتی ہے، جہاں ایسے مظاہر موجود ہیں جن کی طاقت کا انسانی ذہن پوری طرح احاطہ نہیں کر سکتا




