عیش و عشرت کے خواب سے خوفناک انجام تک، ٹرمپ کی جنگ کے تیل بحران نے سمندر میں مستقل رہائش کے خواب دیکھنے والوں کو کمبوڈیا میں لاوارث چھوڑ دیا
فلوریڈا کی کمپنی ولا وائی ریزیڈنسز کے لگژری بحری جہاز ایم وی اوڈیسی کا تصور ہی منفرد تھا،منصوبہ یہ تھا کہ دنیا کے حالات، سیاسی کشیدگی اور روزمرہ زندگی کی پریشانیوں سے دور، مسافر سمندر میں ایک مسلسل عالمی سفر کے دوران اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاریں گے،لیکن جس سفر کو زندگی بھر کی آسائش اور آزادی کا خواب بنا کر پیش کیا گیا تھا، وہ مسافروں کے لیے ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوگیا
ایم وی اوڈیسی نے اکتوبر 2024 میں شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ سے اپنا سفر شروع کیا تھا،اس کا ایک خاص تجارتی پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا،کمپنی نے اسے ایسے لوگوں کے لیے چار سالہ فرار کا راستہ قرار دیا جو ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ سے دور رہنا چاہتے تھے
اس منصوبے کے تحت ایک جوڑے کو جہاز میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے لیے 319,998 ڈالر ادا کرنا تھے،وعدہ تھا کہ وہ دنیا بھر کے سمندروں میں سفر کرتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری برس آسائش اور سکون سے گزار سکیں گے
لیکن ٹرمپ کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی تیل بحران نے اس مہنگے خواب کو بحران میں بدل دیا،بالآخر مسافروں کو صرف سات گھنٹے کا نوٹس دے کر جہاز سے اترنے کا حکم دیا گیا اور ان کا سفر کمبوڈیا میں ختم ہوگیا، دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق ایم وی اوڈیسی نے اکتوبر 2024 میں بیلفاسٹ، شمالی آئرلینڈ سے اپنا سفر شروع کیا تھا،26 اکتوبر 2026 کو کمبوڈیا کی بندرگاہ سیہانوک ویل (Sihanoukville) میں مسافروں کو اچانک جہاز چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا،اس طرح مسافر تقریباً 2 سال، یعنی 24 ماہ سے سمندر میں سفر کر رہے تھے، جب ان کا منصوبہ اچانک ختم ہوگیا
یہ سفر ابتدا میں ساڑھے 3 سال کے لیے طے کیا گیا تھا، جس کے دوران جہاز نے 147 مقامات کے 425 سے زیادہ بندرگاہوں پر رکنا تھا،منصوبے کے مطابق مسافر چاہیں تو مقررہ عالمی سفر مکمل ہونے کے بعد بھی جہاز کو اپنا مستقل گھر بنا سکتے تھے
لیکن ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے کمپنی کے اخراجات بے قابو ہوگئے،کمپنی کے مطابق ایک کیبن کے حصے میں آنے والا ماہانہ ایندھن کا خرچ پہلے تقریباً 1,800 ڈالر تھا، جو ایشیا کے بعض علاقوں میں بڑھ کر 6,000 سے 8,000 ڈالر تک پہنچ گیا،کمپنی نے جہاز کی رفتار کم کرکے اور بندرگاہوں پر قیام بڑھا کر اخراجات قابو کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن مالی خسارہ برداشت کرنا ممکن نہ رہا
اکتوبر کے آخری ہفتے میں جہاز تھائی لینڈ سے کمبوڈیا کی بندرگاہ سیہانوک ویل پہنچا تھا،اس وقت اس پر 203 مسافر اور عملے کے 156 ارکان سوار تھے،جہاز کو وہاں سے ویتنام روانہ ہونا تھا، لیکن کمپنی نے اچانک آپریشن معطل کرنے کا اعلان کردیا،مسافروں کو صرف سات گھنٹے دیے گئے کہ وہ اپنا سامان سمیٹ کر جہاز سے اتر جائیں،ان میں بڑی تعداد امریکی ریٹائرڈ شہریوں کی تھی، جنہوں نے اپنی مستقل رہائش کے خواب کے ساتھ لاکھوں ڈالر تک خرچ کیے تھے






