ناانصافی کا زہر پورے معاشرے کو بیمار کر رہا ہے، امیر بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں
پاکستان میں معاشرتی ناانصافی، طبقاتی تقسیم، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، غربت اور کمزور طبقات کے استحصال کے اثرات صرف متاثرہ افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ ان کی قیمت ادا کرتا ہے ایک غیر منصفانہ معاشرے میں رہنے والے افراد مسلسل خوف، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں، جس کے اثرات وقت کے ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں
مضمون میں کراچی کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شہر میں گھر سے باہر نکلنا اکثر ایک آزمائش بن جاتا ہے ٹریفک کی بدنظمی، بدتمیز ڈرائیوروں، سڑکوں پر گندگی، بھکاریوں اور مختلف خطرات کے باعث شہری مسلسل محتاط اور ذہنی دباؤ کی حالت میں رہتے ہیں یہ کیفیت صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بھی پائی جاتی ہے
مضمون کے مطابق دولت مند طبقہ اپنی مالی حیثیت کی وجہ سے ان مشکلات سے کسی حد تک خود کو محفوظ رکھتا ہے ان کے پاس ذاتی گاڑیاں، ڈرائیور، ایئر کنڈیشنڈ گھر، بجلی کی بندش سے بچنے کے لیے جنریٹر اور بہترین طبی سہولیات موجود ہوتی ہیں اس کے برعکس غریب شہری روزمرہ زندگی میں بنیادی مسائل اور خطرات کا براہ راست سامنا کرتے ہیں
لیکن مالی وسائل رکھنے والے افراد بھی معاشرتی ناانصافی کے مجموعی اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ معاشرے میں پھیلا ہوا خوف، عدم تحفظ اور دوسروں کے ساتھ ہونے والا ظلم بالآخر پورے سماجی ماحول کو متاثر کرتا ہے
مصنفہ اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی محقق ڈاکٹر آرلین جیرونیمس کی کتاب Weathering: The Extraordinary Stress of Ordinary Life in an Unjust Society کا حوالہ دیتی ہیں اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناانصافی اور عدم مساوات کے ماحول میں مسلسل زندگی گزارنے سے انسانی جسم اور ذہن پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں غریب اور محروم طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن اس کے اثرات پورے معاشرے میں پھیلتے ہیں
مضمون میں پاکستانی خواتین کی صورتحال کو معاشرتی ناانصافی کی ایک بڑی مثال قرار دیا گیا ہے ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں، خواتین کو اپنی روزمرہ زندگی میں مسلسل مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد شوہر یا سسرال کے مطالبات پورے نہ ہونے پر خواتین کو ذہنی اور جسمانی اذیت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے بعض خواتین کو اولاد نہ ہونے کی صورت میں طلاق یا شوہر کی دوسری شادی کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
مصنفہ کے مطابق بچوں کی پیدائش کے بعد بھی بعض خواتین کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتی ہیں کیونکہ بچوں کی ذمہ داری اور معاشی انحصار انہیں شوہر کے خلاف آواز اٹھانے سے روک سکتا ہے گھریلو تشدد، خواتین کے قتل اور ازدواجی تعلقات میں عدم مساوات ایسے مسائل ہیں جو خواتین کو مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال میں رکھتے ہیں
اس مسلسل ذہنی دباؤ کے جسمانی اثرات بھی سامنے آتے ہیں بار بار خوف اور پریشانی کی کیفیت انسانی جسم میں ہارمونز کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے، بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے اور جسم میں سوزش پیدا کرنے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے طویل عرصے تک ایسے حالات میں رہنے سے مختلف دائمی بیماریوں اور قبل از وقت موت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے
مضمون میں 2021 کی ایک منظم تحقیقی رپورٹ اور مختلف مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حاملہ خواتین میں 37 فیصد کو دوران حمل ڈپریشن جبکہ 30 فیصد کو بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیق میں شوہر کی جانب سے تشدد اور ازدواجی تعلقات میں خرابی کو اس ذہنی دباؤ کی اہم وجوہات میں شامل کیا گیا ہے
مصنفہ ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مرد بھی ایسے غیر منصفانہ معاشرتی نظام کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں صنفی امتیاز اور مرد و خواتین کی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ جہاں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک زیادہ پایا جاتا ہے وہاں مردوں کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے حقوق اور عزت کا تحفظ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بہتری سے جڑا ہوا ہے
پاکستان میں غربت، دولت کی بنیاد پر امتیاز اور ذات پات کی تقسیم بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے غریب افراد کو اکثر بنیادی سہولیات، بہتر تعلیم اور علاج تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور کمزور طبقات کے خلاف جرائم بھی معاشرتی ناانصافی کی ایسی مثالیں ہیں جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں
مصنفہ کے مطابق معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ رفتہ رفتہ ناانصافی کو معمول سمجھنے لگتے ہیں خواتین پر تشدد، غریبوں کے ساتھ بدسلوکی، بچوں کے استحصال اور طاقتور افراد کے لیے الگ قوانین جیسے مسائل دیکھنے کے باوجود لوگ خاموش رہتے ہیں بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ غربت اور محرومی کسی شخص کی اپنی قسمت یا غلطیوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ حقیقت میں معاشرتی اور معاشی حالات بھی کسی انسان کی زندگی کے مواقع کا تعین کرتے ہیں
مضمون کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ کسی غیر منصفانہ معاشرے میں صرف اپنی ذاتی زندگی بہتر بنا لینا کافی نہیں بہتر خوراک، ورزش، اچھی رہائش اور مہنگا علاج کسی فرد کو کچھ سہولتیں تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن جب تک پورے معاشرے میں انصاف، انسانی احترام اور مساوی حقوق کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اجتماعی مسائل برقرار رہیں گے
مصنفہ کے مطابق پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشرتی ناانصافی محض غریبوں یا کمزور طبقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات امیر اور غریب دونوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں جب معاشرہ دوسروں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو نظرانداز کرنا شروع کر دے تو اس کی قیمت بالآخر ہر شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے





