جرمنی میں بھی نوجوانوں کی بغاوت کا آغاز، ہالووین پر 34 شہروں میں 1 لاکھ 60 ہزار افراد کے احتجاج کا اعلان
یورپ میں نوجوان نسل کی جانب سے مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیمی نظام، حکومتی اخراجات میں کٹوتیوں اور لازمی فوجی بھرتی کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک جرمنی تک پہنچ گئی ہے ملک کے 34 شہروں میں ہفتے کے روز 31 اکتوبر کو بڑے مظاہروں کی تیاریاں کی گئی ہیں، جن میں 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے
یہ مظاہرے نوجوانوں کی تحریک ’’Gen Z Regelt‘‘ کے زیر اہتمام منعقد کیے جا رہے ہیں اس تحریک کا نام تقریباً اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے کہ نوجوان اب اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے لیے میدان میں آ رہے ہیں
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ حکومت نوجوان نسل کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے اور تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کرے نوجوانوں کو شکایت ہے کہ حکومت ان کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرتے وقت ان کی آواز کو اہمیت نہیں دیتی جبکہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کا بوجھ بھی مسلسل ان پر بڑھ رہا ہے
جرمنی میں ہونے والے ان مظاہروں میں لازمی فوجی سروس کی مخالفت بھی نمایاں مطالبہ ہے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی جنگوں کے لیے فوجی تربیت لینے اور فوجی ذمہ داریاں اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جن کے فیصلوں میں ان کی کوئی آواز نہیں ہوتی
تحریک کے منتظمین کے مطابق جرمنی کے نوجوانوں کو ناقص تعلیمی سہولیات، خستہ حال اسکولوں، یونیورسٹیوں کی خراب عمارتوں، بڑھتے ہوئے اخراجات اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ان کا الزام ہے کہ حکومت عوامی سہولیات پر اخراجات کم کر رہی ہے جبکہ بڑی کمپنیوں کو مختلف مراعات حاصل ہیں اور دفاعی شعبے پر اربوں یورو خرچ کیے جا رہے ہیں
جرمنی کے شہر برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے دارالحکومت برلن میں برانڈن برگ گیٹ کے قریب بھی بڑا احتجاج متوقع ہے
18 سالہ نوجوان اسٹیو، جو میونخ کے مظاہرے سے خطاب کرنے والا ہے، نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کے تحفظات کا جواب دینے کے بجائے اخراجات میں مزید کٹوتیوں اور ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا ہے اس نے واضح کیا کہ جب تک حکومت نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کرنا بند نہیں کرتی، وہ احتجاج جاری رکھیں گے
جرمنی میں ان مظاہروں کے پیش نظر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں حکام کو خدشہ ہے کہ بعض انتہا پسند گروہ پرامن احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے تشدد اور توڑ پھوڑ کی کوشش کر سکتے ہیں
ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے فرانس میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی لوٹ مار، عمارتوں کو آگ لگانے اور پولیس گاڑیوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جرمنی میں ایسے واقعات کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
برلن کی مشہور تجارتی شاہراہ کرفرسٹن ڈیم پر بعض دکانوں اور زیورات کی بڑی دکانوں کے شیشوں کو لکڑی کے تختوں سے محفوظ کیا گیا ہے کاروباری اداروں نے ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر بعض دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے
حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور وفاقی و ریاستی سکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم حکام کو توقع ہے کہ مظاہروں کی اکثریت پرامن رہے گی
اس تحریک کے منتظمین نے تشدد سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، لیکن اس کی تنظیمی ساخت اور بعض سیاسی و سماجی گروہوں کی شمولیت پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم نے اس تحریک سے خود کو الگ کر لیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ نوجوانوں کے تعلیمی اور معاشی مسائل حقیقی ہیں اور ان کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے
جرمنی میں یہ احتجاج یورپ کے دوسرے ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے جاری مظاہروں کے پس منظر میں ہو رہا ہے سربیا میں طلبہ کی تحریک نے سیاسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ فرانس میں مہنگائی، تعلیم اور عوامی سہولیات کے مسائل پر ہونے والے مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر لوٹ مار اور تشدد کے واقعات بھی پیش آئے فرانس میں بھی ہالووین کے موقع پر مزید احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
جرمنی کی نوجوان نسل کی یہ تحریک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھانے، پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور کام کرنے کی عمر کے افراد کی کم ہوتی تعداد جیسے مسائل کا سامنا ہے
مجموعی طور پر جرمنی میں نوجوانوں کا یہ احتجاج محض فوجی بھرتی کے خلاف مظاہروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں تعلیم، مہنگائی، رہائش، معاشی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور نوجوان نسل کے مستقبل سے متعلق متعدد مطالبات شامل ہیں یہ تحریک اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یورپ کے نوجوان اب اپنے معاشی اور سماجی مسائل پر حکومتی پالیسیوں میں زیادہ مؤثر کردار اور اپنی آواز سنے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں






