Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ کا یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری، فراہمی میں کئی سال لگنے کا خدشہ

امریکہ کا یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری، فراہمی میں کئی سال لگنے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یوکرین کو 500 جدید پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ان میزائلوں کی فراہمی شروع ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو روس کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے کے لیے فضائی دفاعی نظام کے میزائلوں کی شدید ضرورت ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس مجوزہ فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے اور اب اسے امریکی کانگریس کے جائزے کے لیے بھیجا جائے گا اس معاہدے کے تحت یوکرین کو 500 پیٹریاٹ PAC-3 میزائل فراہم کیے جائیں گے، جو دشمن کے بیلسٹک میزائلوں اور دیگر فضائی حملوں کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد یوکرین کی موجودہ اور مستقبل کی فضائی دفاعی ضروریات پوری کرنا اور روسی حملوں کے مقابلے میں اس کی دفاعی صلاحیت بہتر بنانا ہے تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ میزائلوں کی تیاری اور یوکرین تک ترسیل کا عمل کب مکمل ہوگا
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ میزائلوں کی فراہمی ممکنہ طور پر صرف چند سال بعد شروع ہو سکے گی انہوں نے امریکی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ موجودہ خطرات کو دیکھتے ہوئے یوکرین کو فوری طور پر میزائل فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے
زیلنسکی نے تجویز دی کہ امریکہ اور یورپی اتحادی اپنے موجودہ ذخائر میں موجود پیٹریاٹ میزائل فوری طور پر یوکرین کو دے سکتے ہیں، جبکہ اس نئے معاہدے کے تحت بعد میں تیار ہونے والے میزائلوں سے ان ممالک کے ذخائر دوبارہ پورے کیے جا سکتے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو آنے والے موسم سرما میں روسی حملوں سے اپنے شہروں اور شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر میزائلوں کی ضرورت ہے انہوں نے اس سے پہلے بھی مغربی ممالک سے ہر ماہ 100 پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کی درخواست کی تھی
پیٹریاٹ میزائل یوکرین کے فضائی دفاع میں انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ روس مسلسل یوکرینی شہروں، فوجی تنصیبات اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنا رہا ہے خاص طور پر بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے جدید پیٹریاٹ نظام یوکرین کے پاس موجود چند مؤثر دفاعی ذرائع میں شامل ہے
اس معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 2.1 ارب ڈالر بتائی گئی ہے امریکی حکام کے مطابق اس خریداری کے لیے امریکہ اپنی سرکاری رقم خرچ نہیں کرے گا بلکہ یوکرین کے اتحادی ممالک اس کی مالی معاونت کریں گے کینیڈا، جرمنی اور ناروے اس سلسلے میں فنڈز فراہم کریں گے، جبکہ یورپی یونین کے قرض کے ذریعے بھی مالی وسائل مہیا کیے جائیں گے
اس فروخت میں لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ میزائلوں کے علاوہ اضافی پرزے، تکنیکی معاونت اور ترسیل سے متعلق سہولیات بھی شامل ہیں
یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب واشنگٹن اور کیف کے درمیان تعلقات میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی پیدا ہوئی تھی یوکرین نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ پیٹریاٹ اور دیگر فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ضروری میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کر رہا ہے زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کا ملک تقریباً ایک ماہ سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے
امریکہ اور یوکرین کے تعلقات میں تناؤ کی ایک وجہ روس کے ساتھ امریکی ڈیزل معاہدہ بھی بنا، جس پر کیف نے تحفظات کا اظہار کیا تھا یوکرین نے امریکی انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی اور فوجی مواصلاتی سہولیات میں رکاوٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی تھی تاہم 20 اکتوبر کو اوسلو میں زیلنسکی اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی۔
دفاعی ماہرین کے لیے اس معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ منظوری کے باوجود یوکرین کی فوری ضرورت پوری ہونا یقینی نہیں اگر میزائلوں کی تیاری اور ترسیل میں کئی سال لگتے ہیں تو آنے والے موسم سرما میں روسی حملوں کے خلاف یوکرین کو اپنے موجودہ ذخائر اور اتحادیوں کی فوری مدد پر انحصار کرنا پڑے گا
یوں امریکہ کی جانب سے 500 پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری یوکرین کے دفاع کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ میزائل اس وقت دستیاب ہو سکیں گے جب یوکرین کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے

قومی خبریں سے مزید