عمران خان سے ملاقات کے بغیر حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات نہیں ہوں گے، سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کا انتظام نہیں کرتی، حکومت کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں ہوں گے اپوزیشن نے مذاکرات کی آئندہ ذمہ داری قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو سونپی ہے، جنہوں نے عمران خان سے ملاقات کو بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی بنیادی شرط قرار دیا ہے
سیاسی صورتحال ایسے وقت میں مزید پیچیدہ ہوئی ہے جب وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس فیصلے کی منظوری حاصل کرنے کے بعد حکومت نے اسے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے، تاہم تحریک انصاف اور دیگر مخالف سیاسی حلقے اس اقدام کو منتخب صوبائی حکومت کے اختیار اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دے رہے ہیں
محمود خان اچکزئی نے حکومت کے لیے مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ کھلا رکھا ہے وہ ایک تجربہ کار سیاست دان سمجھے جاتے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے روابط موجود ہیں ان کی پیش کش پر عمل کرتے ہوئے حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے سکتی ہے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور بات چیت بحال کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے
تاہم موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی آسان دکھائی نہیں دیتی حکومت اپنے فیصلے کو سکیورٹی کی ضرورت قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ امن و امان کے مسائل کا حل منتخب حکومت کو ہٹانے یا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے میں نہیں بلکہ مؤثر حکمت عملی اور سیاسی مشاورت میں ہے
پاکستان میں سیاسی کشیدگی کی جڑیں گزشتہ کئی برسوں سے موجود ہیں عمران خان کی وفاقی حکومت اپریل 2022 میں اقتدار سے ہٹائی گئی تھی اس کے بعد آنے والی حکومتیں معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے وعدے کرتی رہی ہیں، لیکن عام شہریوں کو اب بھی مہنگائی، غربت اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے
حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور معاشی استحکام کی باتیں تو مسلسل کی جاتی رہی ہیں، مگر عوام میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ معاشی مشکلات کا بوجھ زیادہ تر عام شہری اٹھا رہے ہیں دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور مقدمات میں مصروف ہیں اس صورت حال میں عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور حکومت پر اعتماد کمزور ہوتا ہے
سیاسی مبصرین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوں گی یا سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کرے گی تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ اور اس کے جواب میں حکومتی اقدامات سے وقتی طور پر سیاسی دباؤ تو پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اس سے ملک کے معاشی اور انتظامی مسائل حل نہیں ہوں گے
پاکستان جیسے بڑے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے وجود اور آئینی حقوق کو تسلیم کریں سیاسی مخالفین کو مکمل طور پر منظر سے ہٹانے کی کوششیں جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں اسی طرح اپوزیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو مذاکرات اور آئینی راستوں کے ذریعے آگے بڑھائے
موجودہ بحران کا حل اس بات میں ہے کہ حکومت عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر لچک دکھائے اور محمود خان اچکزئی کی مذاکراتی پیش کش کو سنجیدگی سے لے اگر دونوں فریق ضد اور تصادم کی سیاست جاری رکھتے ہیں تو نقصان کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کی معیشت، جمہوری اداروں اور عام شہریوں کے اعتماد کو بھی پہنچے گا
پاکستان کو اس وقت سیاسی انتقام اور مسلسل محاذ آرائی کے بجائے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام کے حقیقی مسائل، مہنگائی، غربت، روزگار اور امن و امان کو ترجیح دے مذاکرات کی بحالی اس سمت میں پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کو اہمیت دیں





