Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں مودی حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت، نئی دہلی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ

بھارت میں مودی حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت، نئی دہلی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے قومی پرچم لہراتے ہوئے دارالحکومت کے مصروف تجارتی مرکز کناٹ پلیس میں احتجاج کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر دیا،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مظاہرہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی کا تازہ اظہار ہے، جبکہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا تنازعہ حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے
احتجاج کی اپیل نوجوانوں کی تحریک ’’کاکروچ‘‘ جنتا پارٹی نے کی تھی،اس تحریک کے رہنما ابھیجیت ڈپکے کو مظاہرے سے قبل پولیس نے حراست میں لے لیا،احتجاج میں مختلف عمر کے افراد نے شرکت کی، جو اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے
بھارت میں گزشتہ سال سے جاری انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے دوران 130 ملین سے زیادہ نام خارج کیے جا چکے ہیں،اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی تحریکوں کا الزام ہے کہ یہ کارروائی سیاسی مقاصد کے تحت کی جا رہی ہے اور اس سے لاکھوں مزید شہری ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں،ناقدین کے مطابق اس عمل سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں،مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر جواب دہی یقینی بنائی جائے
تاہم الیکشن کمیشن اور نریندر مودی کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں،ان کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراجات اور نااہل افراد کے نام نکالنا ہے
جمعہ کا احتجاج ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس میں نوجوان اور اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہیں،یہ تنازعہ ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب بھارت میں ووٹروں کے اندراج، اقلیتوں کے حقوق اور انتخابی اداروں کی غیر جانب داری سے متعلق بحث زور پکڑ رہی ہے

قومی خبریں سے مزید