روس کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان، مگر عمل درآمد سے پہلے ہی ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے، کیا امریکی صدر یوکرین کو تنہا چھوڑ کر پیوٹن کے لیے معاشی راستہ کھول رہے ہیں؟
تحقیق و تجزیہ : آفاق فاروقی
واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں اور بھاری محصولات نافذ ہونے سے عین پہلے انہیں معطل کرنے کے فیصلے نے واشنگٹن کی روس پالیسی، یوکرین کی جنگ اور عالمی توانائی کی سیاست پر نئی سیاسی معاشی بحث کے دروازے کھول دیے ہیں ،ستمبر میں جس قانون پر ٹرمپ نے خود دستخط کیے تھے، اسی کے اہم حصوں پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وہ روسی ایندھن کی عالمی منڈی میں فروخت کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید میں اضافہ کر چکے ہیں
امریکی میڈیا اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کاروں کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا امریکہ کی پالیسی کا مقصد تھا تو ٹرمپ نے اپنی ہی انتظامیہ کے دستخط شدہ قانون کو نافذ ہونے سے پہلے کیوں روک دیا؟ اس سوال کا جواب صرف روس کے ساتھ ان کے تعلقات میں نہیں بلکہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایران کی جنگ، نومبر کے وسط مدتی انتخابات اور چین و بھارت کے ساتھ امریکی اقتصادی تعلقات میں بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے صدارتی حکم نامے میں اس اقدام کو امریکہ کے قومی مفاد میں قرار دیا، لیکن اس کی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کیں،قانون کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے اور روس سے متعلق دیگر تجارتی پابندیاں نافذ کرنے کی گنجائش تھی،اس کا مقصد ماسکو کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنا تھا، جسے روس یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے
امریکی معیشت اور داخلی سیاست اس فیصلے کی ایک اہم وضاحت پیش کرتی ہیں،ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے لیے تیل اور ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے،روسی تیل اور گیس کے خریداروں پر بھاری محصولات عائد کرنے سے عالمی منڈی میں رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ تھا
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں نے بھی اس امکان کی نشاندہی کی کہ پابندیوں کے نفاذ سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی تھیں،ایس اینڈ پی گلوبل سے گفتگو کرتے ہوئے اٹلانٹک کونسل کے انرجی گلوبل سینٹر کے توانائی مشاورتی گروپ کے سربراہ ڈیوڈ گولڈوین نے کہا کہ جب ٹرمپ خود روسی ڈیزل کی فروخت کی اجازت دے رہے ہیں تو ان کے لیے دوسرے ممالک کو روسی ایندھن خریدنے پر سزا دینا مشکل ہوگا، کیونکہ اس سے ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں
یہ مسئلہ محض معاشی نہیں بلکہ انتخابی بھی ہے،نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے،اگر ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس کا اثر امریکی صارفین، کاروبار اور انتخابی ماحول پر پڑ سکتا ہے،اس تناظر میں ٹرمپ کا فیصلہ روس کو رعایت دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی دکھائی دیتا ہے
تاہم یہ بھی اہم ہے کہ پابندیاں معطل کرنے سے تیل کی قیمتوں میں کمی یقینی نہیں ہو جاتی،اس کا انحصار عالمی رسد، جنگ کی صورت حال، نقل و حمل اور منڈی کے ردعمل پر ہے،چنانچہ ٹرمپ کا اقدام ایک ممکنہ معاشی خطرے سے بچنے کی کوشش تو ہے، مگر اس کی کامیابی الگ سوال ہے
امریکی میڈیا کی توجہ اس حقیقت پر بھی ہے کہ نئی پابندیوں کی معطلی کسی الگ تھلگ فیصلے کے بجائے روسی ڈیزل سے متعلق حالیہ امریکی اقدام کے بعد سامنے آئی ہے،ٹرمپ نے روسی ڈیزل کی فروخت کے لیے پابندیوں میں نرمی اور عالمی منڈی کو ایندھن فراہم کرنے کے انتظام کی حمایت کی ہے،اس سے ماسکو کو توانائی کی فروخت سے آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف یہ ہے کہ اس طرح ایندھن کی رسد بہتر بنانے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے
یہاں ٹرمپ کی پالیسی کا تضاد نمایاں ہوتا ہے،ایک طرف روس کی جنگی آمدنی محدود کرنے کے لیے قانون پر دستخط کیے گئے، دوسری طرف ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے روسی توانائی کی فروخت کو سہولت مل سکتی ہے،یہی تضاد ان ناقدین کے لیے بنیادی دلیل ہے جو سمجھتے ہیں کہ فوری معاشی ضرورت اور سیاسی مفادات نے روس کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کے امریکی عزم کو کمزور کیا ہے
واشنگٹن پوسٹ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں توانائی کی بلند قیمتوں اور وسط مدتی انتخابات کے دباؤ کو ٹرمپ کی روس سے متعلق نئی حکمت عملی کے اہم پس منظر کے طور پر پیش کیا،اخبار کے مطابق روسی ڈیزل کی فروخت میں سہولت سے ماسکو کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ یوکرین کو جنگ میں امریکی حمایت کے مستقبل کے بارے میں مزید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں
اس فیصلے کا دوسرا اہم پہلو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان جنگ کے سفارتی محاذ سے متعلق ہے،ٹرمپ کی جانب سے زیلنسکی کی قیادت پر تنقید اور روسی توانائی کی فروخت میں سہولت کے اقدامات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ واشنگٹن ماسکو پر دباؤ بڑھانے کے بجائے جنگ کے خاتمے کے لیے ایسے راستے تلاش کر رہا ہے جن میں روس کو معاشی رعایتیں دینا بھی شامل ہے
امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن ڈان بائر نے پابندیوں کی معطلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا اقدام پیوٹن کے سامنے ایک اور پسپائی ہے اور اس سے یوکرین کے اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے وعدے کمزور ہوتے ہیں،ان کے نزدیک کانگریس نے جس قانون کے ذریعے روس کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی تھی، اس کے نفاذ کو روکنا قانون سازی کے مقصد کے برعکس ہے
کانگریس میں یہ اعتراض صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں رہا،ریپبلکن سینیٹرز لیزا مرکووسکی، سوزن کولنز، تھام ٹلس اور جان کرٹس نے بھی روسی ڈیزل پر پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی،ان کا مؤقف تھا کہ روس کی جانب سے یوکرینی شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہنے کے دوران ماسکو کو مالی سہولت دینا مناسب نہیں
یہ اختلاف اس لیے اہم ہے کہ روس کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات کی حمایت امریکی سیاست میں صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہی،اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پابندیوں کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے، یا فوری معاشی ضرورتوں کے تحت اسی دباؤ کو کم کر رہی ہے؟ موجودہ اقدامات سے دونوں پہلو سامنے آتے ہیں، لیکن انتظامیہ نے ابھی تک اپنی مکمل حکمت عملی واضح نہیں کی
نئی قانون سازی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس کے تحت صرف روس کو نہیں بلکہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا،چین اور بھارت ان ممالک میں شامل ہیں جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں،قانون کے تحت ان ممالک کی امریکہ کو برآمدات پر بھاری محصولات عائد کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی تھی
امریکی پالیسی پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ قانون روس کے خلاف پابندیوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں اضافی اختیار بھی دیتا تھا،واشنگٹن کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ چین کے ساتھ پہلے ہی اقتصادی اور اسٹریجک مقابلہ جاری ہے، جبکہ بھارت ایشیا میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے،روسی تیل خریدنے پر ان دونوں ممالک کو بھاری محصولات کی دھمکی دینا دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتا تھا
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیہ کار ششوت کمار نے 5 اکتوبر کے اپنے تجزیے میں نشاندہی کی کہ نئی قانون سازی روس کے خلاف پابندیوں کے علاوہ چین اور بھارت جیسے بڑے خریداروں کے ساتھ امریکی اقتصادی تعلقات میں دباؤ اور سودے بازی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے،اس تجزیے کے مطابق اصل سوال یہ تھا کہ واشنگٹن ان اختیارات کو حقیقتاً کس حد تک استعمال کرے گا اور کیا وہ اپنے اہم تجارتی شراکت داروں کے خلاف اتنے بھاری محصولات عائد کرنے کا خطرہ مول لے گا
بھارت نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایسے محصولات دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ چین نے دوسرے ممالک پر امریکی قوانین کے غیر ضروری اطلاق کی مخالفت کی تھی،اس پس منظر میں پابندیوں کی معطلی کو چین اور بھارت کے ساتھ فوری تجارتی تصادم سے بچنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے،تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہی اس فیصلے کی بنیادی وجہ تھی
روس کے بارے میں ٹرمپ کی موجودہ حکمت عملی پر بحث میں ان کے پہلے دور کی قومی سلامتی ٹیم کے سابق عہدیداروں کے تجزیے بھی اہم ہیں،ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں روس کے امور پر کام کرنے والی فیونا ہل نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں روسی صدر پیوٹن کو درپیش فوجی مشکلات اور روسی فوج کے بھاری جانی نقصان کی نشاندہی کی تھی،ان کے تجزیے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ روس کی جنگی مشکلات کے باوجود ماسکو کو توانائی کی آمدنی حاصل کرنے کے مواقع ملنا یوکرین کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے
اس تناظر میں روسی توانائی کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی کا مطلب صرف عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھانا نہیں،اس کے ذریعے روس کو حاصل ہونے والی آمدنی اور یوکرین کی جنگی پوزیشن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے،البتہ یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ لازماً پیوٹن کی مدد کرنے کی نیت سے کیا ہے،وائٹ ہاؤس نے اسے قومی مفاد سے متعلق قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین اس کے ممکنہ نتائج پر سوال اٹھا رہے ہیں
امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے بھی اکتوبر کے اپنے تجزیے میں ٹرمپ کی روس اور یوکرین سے متعلق پالیسی میں تبدیلی، توانائی کی قیمتوں اور امریکی داخلی سیاست کے باہمی تعلق کو نمایاں کیا،اس تجزیے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا ٹرمپ کی توجہ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ نکالنے پر ہے یا ان کے اقدامات عملاً روس کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور یوکرین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں
مجموعی طور پر ٹرمپ کے فیصلے کے پیچھے تین بڑے عوامل دکھائی دیتے ہیں،امریکہ میں توانائی کی قیمتوں اور وسط مدتی انتخابات کا دباؤ، روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکراتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش، اور چین و بھارت جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی تصادم سے بچنے کی ضرورت،ان میں سے کسی ایک کو حتمی وجہ قرار دینے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں، کیونکہ صدر نے اپنے حکم نامے میں قومی مفاد کا حوالہ تو دیا لیکن تفصیلی وضاحت نہیں کی
تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر اس فیصلے کا اثر واضح ہے،روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے منظور شدہ قانون کے اہم حصوں کو نافذ ہونے سے روک کر ٹرمپ نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی ترجیح روس کی جنگی آمدنی محدود کرنا ہے، عالمی توانائی کی قیمتیں قابو میں رکھنا ہے یا پیوٹن کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا ہے جسے وہ اپنی سفارتی کامیابی قرار دے سکیں،ان مقاصد میں بیک وقت پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں ایک مقصد کو ترجیح دینے سے دوسرے پر منفی اثر پڑنے کا خطرہ بھی موجود ہے





